
ضلع گوادر کو بھی بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعہ میں خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ بدھ کی شب گوادر میں پسنی کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق دو افراد علی الرحمان اور شاہ غیاث، پسنی ٹاؤن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر ٹیلیفون پر بات کر رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر خود کار اسلحے سے حملہ کیا۔
شدید زخمی ہونے کے باعث دونوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق لکی مروت سے تھا۔
پولیس کے مطابق یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ ساحلی ضلع گوادر کا شمار بھی بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ صوبے میں جاری شورش سے متاثر ہیں۔
22جولائی 2012کو ضلع گوادر میں مسلح افراد کے حملے کوسٹ گارڈز کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
مئی 2004میں گوادر شہر میں پورٹ پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو بھی ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں سے تین چینی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں گوادر میں چین کے تعاون سے ایک پورٹ تعمیر کیا گیا تھا جس کا مقصد تجارتی روابط بڑھانا تھا۔






























