بلوچستان: پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 19:24 GMT 00:24 PST

بلوچستان میں پرتشدد واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے چار مختلف واقعات میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے ایک کارکن سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

بدھ کو پنجگور میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔

بی این پی کے کارکن عبدالعزیز پرکانی پر حملے کا واقعہ کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق عبد العزیز ایک دکان پر بیٹھے تھے کہ وہاں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں عبدالعزیز ہلاک ہوگئے۔

کلِک بلوچستان: 2012، بدامنی میں اضافہ ہوا

عبدالعزیز بی این پی کے مقتول سیکریٹری جنرل حبیب ایڈووکیٹ کے بھتیجے تھے۔جنہیں 2010میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔

بی این پی کے کارکن لاش کو ہسپتال سے پریس کلب لائے اور وہاں قتل کے خلاف احتجاج کیا۔

بی این پی نے دعویٰ کیا کہ 2008 کے بعد اس کے پچاس سے زائد رہنماوں اور کارکنوں کو قتل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ شہر میں تشدد کے ایک اور واقعہ میں سمنگلی روڈ پر ایک خفیہ ادارے کے سابق اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا۔

کوئٹہ شہر ہی میں ایک اور واقعہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک عالم دین کو ہلاک کر دیا۔

خضدار میں تشدد کے ایک واقعہ میں سیرت چوک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

وہاں بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع پنجگور میں نامعلوم افراد نے دستی بم سے الیکشن کمیشن کے دفتر پر حملہ کیا۔

پولیس کی مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ سال دوہزار بارہ میں بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائِے تاؤان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔

بلوچستان میں سال دو ہزار تیرہ کے آغاز پر بھی پرتشدد واقعات میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>