
ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں دو ہزار بارہ کراچی کا بدترین سال رہا
دو ہزار بارہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہلاکتوں کے حوالے سے اب تک کا بدترین سال رہا ہے اور دو ہزار کے لگ بھگ افراد کو شہر میں سیاسی، لسانی، اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیا گیا۔
سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق گذشتہ تمام برسوں کے مقابلے میں سال دو ہزار بارہ میں قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد زیادہ رہی۔ مقتولین میں پچاس فیصد سے زیادہ ہدف بنا کر قتل کیے گئے جبکہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
کراچی میں قتل ہونے والے افراد کے اعداد و شمار سرکاری سطح پر پولیس اور نجی سطح پر بعض غیر سرکاری تنظیمیں جمع کرتی ہیں جن میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان بھی شامل ہے۔
کمیشن کے مطابق رواں برس کراچی میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ رہی۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ زہرہ یوسف کے مطابق شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے سیاسی اور لسانی عوامل کارفرما ہیں اور دو گروہوں کی اس لڑائی کے دوران ایسے لوگ بھی مارے جاتے ہیں جن کا کسی گروہ سے تعلق نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ سال کے آخری مہینوں میں قتل و غارت کے ان واقعات میں ایک اور رجحان میں اضافہ دیکھا گیا جو فرقہ وارانہ بنیاد پر ہے۔
تاہم صوبائی وزارتِ داخلہ کے معاونِ خصوصی شرف الدین میمن کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے افراد میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے افراد کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہدف بنا کر قتل کرنے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کئی افراد اپنے ذاتی بغض و عناد کے باعث اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگا رہے ہیں اور اسے ٹارگٹ کلنگ کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شرف الدین میمن کے بقول سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا ہے جبکہ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کیا گیا ہے۔
"ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے سیاسی اور لسانی عوامل کارفرما ہیں اور دو گروہوں کی اس لڑائی کے دوران ایسے لوگ بھی مارے جاتے ہیں جن کا کسی گروہ سے تعلق نہیں ہوتا"
زہرہ یوسف
انسانی حقوق کمیشن کے مطابق اس سال کراچی میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ رہی اور ہدف بنا کر قتل کیے جانے والے افراد کو زیادہ تر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
جناح ہسپتال میں ایک میڈیکل لیگل افسر ڈاکٹر کلیم شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہدف بنا کر قتل کرنے والے حملہ آور ممکنہ طور پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور وہ زیادہ تر سر کو نشانہ بناتے ہیں اور سر کے بعد زیادہ تر افراد کو گولیاں سینے میں ماری جاتی ہیں۔
شہر میں سال بھر میں دو ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے قتل کے بعد پولیس کیا کر رہی ہے اور اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی یا نہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کراچی پولیس کے ترجمان ایس ایس پی عمران شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی ٹارگٹ کلرز رنگے ہاتھوں بھی پکڑے گئے ہیں اور تفتیش کے نتیجے میں بھی، اور ایسے افراد کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے جو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔
پولیس کے ترجمان عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد میں کوئی ایک گروہ نہیں بلکہ مختلف گروہوں کے لوگ شامل ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کسی گروہ سے تعلق نہیں لیکن وہ کالعدم تنظیموں کا نام استعمال کر رہے تھے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ بھتہ مافیا نے بھی سر اٹھایا ہے جو اب تاجروں اور دوکانداروں کے لیے خاص طور پر دردِ سر بنا ہوا ہے۔ بھتہ مانگنے والے پرچی پر رقم لکھ کر مطلوبہ شخص کو ارسال کرتے ہیں اور اگر وہ شخص بھتہ نہ دے تو اسے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں جو ٹارگٹ کلنگ کی ہی ایک قسم ہے۔
پولیس ترجمان عمران شوکت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انسدادِ بھتہ سیل قائم کیا گیا ہے تاہم اس میں پولیس کو جو مشکل پیش آ رہی ہے، وہ گواہی دینے والوں کی کمی ہے۔ اس کے پیشِ نظر وٹنس پروٹیکشن پلان کا انتظار ہے تاکہ گواہی دینے والوں کو بھی تحفظ میسر آسکے اور ان کا پولیس پر اعتماد بڑھ سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے بلند بانگ دعوے اپنی جگہ، پولیس کے ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرنے کے دعوے بھی اپنی جگہ، لوگ تو اس پر یقین کریں گے جو نظر آرہا ہے، اور کراچی میں سب کچھ تو نظر آرہا ہے لیکن حکومت نظر نہیں آرہی۔






























