کراچی:ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مظاہرہ،دس گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 15:26 GMT 20:26 PST

کراچی میں بظاہر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ معمول کی بات ہے۔

کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہدف بنا کر قتل کیے جانے کے واقعات کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے دس مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ نامعلوم افراد نے دو بسوں کو آگ بھی لگا دی ہے۔

شہر میں بدھ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ سے شیعہ رہنما علامہ آفتاب حیدر اور ان کے ساتھی کے قتل کے بعد دو روز میں مختلف وارداتوں میں کم از کم نو شیعہ مارے جا چکے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگز کے ان تازہ واقعات کے خلاف اہلِ تشیع کی مختلف تنظیموں نے شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر جمعہ کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

احتجاج کا اعلان کرنے والے شیعہ فرقے کی مختلف تنظیموں کے اتحاد پاسبان عزا کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاجی مظاہرین پر امن تھے، اور خراسان کی امام بارگاہ سے سپریم کورٹ (کراچی رجسٹری) تک جانا چاہتے تھے تاکہ ملک بھر میں جاری شیعہ افراد کی قتل و غارت کے خلاف اپنی آواز عدالت تک پہنچاسکیں اور از خود نوٹس لینے کی استدعا کر سکیں۔

لیکن پولیس کی بڑی تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے کر احتجاج ختم کروانا چاہا اور اس کے لیے شیلنگ کی، جس سے دو مظاہرین زخمی ہو گئے۔

پاسبانِ عزا کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علامہ آفتاب حیدر اور مقتول شیعہ رہنما عسکری رضا کے قاتلوں سمیت تمام شیعہ افراد کے قتل و غارت میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے شیعوں کے قتل و غارت کے معاملے پر از خود نوٹس نہیں لیا اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے معاملے کی سماعت نہ کی تو پھر وہ مایوسی کی حالت میں اقوامِ متحدہ سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔

رابطہ کرنے پر کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود نے تصدیق کی کہ پولیس نے شیلنگ کے بعد آٹھ سے دس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

سی سی پی او اقبال محمود کا کہنا تھا کہ شر پسند عناصر نے سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کرنا چاہی اور صورتِ حال کو بگڑنے سے بچانے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔

"صوبائی حکومت نے بارہ محرم الحرام تک کے لیے تین شہروں، کراچی، حیدر آباد اور خیر پور میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے۔"

صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن

ادھر شہر میں آگ بجھانے والے ادارے فائر سروس کے ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے شہر کے مرکزی علاقے نمائش کے قریب دو گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے۔

دوسری طرف حکومتِ سندھ نے صوبے کے تین شہروں کراچی، حیدرآباد اور خیر پور میں محرم کی بارہ تاریخ تک موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے جب کہ دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ کردی گئی ہے۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے صوبائی حکومت نے صوبے، خصوصاً کراچی اور حیدر آباد میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بارہ محرم الحرام تک کے لیے تین شہروں، کراچی، حیدر آباد اور خیر پور میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری (یعنی دو افراد کے موٹر سائیکل پر بیٹھنے) کی پابندی عائد کردی ہے۔

پابندی کا اطلاق جمعہ اور سنیچر کی درمیان شب بارہ بجے سے ہوگا۔

کراچی میں کئی دنوں سے جاری بظاہر فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی نوعیت کے پرتشدد واقعات کے دوران روزانہ دس سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہیں اور اس ہفتے ایسے واقعات میں اچانک زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔

قتل و غارت کی یہ وارداتیں شہر کے امیر و غریب سمجھے والے قریباً تمام ہی علاقوں میں ہورہی ہیں جبکہ ان وارداتوں کے دوران بھی سرکاری اہلکاروں خصوصاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>