کراچی میں امن کے لیے تعاون کی درخواست

،تصویر کا ذریعہPID
صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کے لیے اتحادی جماعتوں کو تعاون کی درخواست کی ہے اور ایک رابطہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
صدر زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کراچی سے بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ نہ ہوسکے۔
کراچی میں پیر کو صدر نے اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی صدرت کی، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاھ، متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر فاروق ستار، بابر غوری اور عوامی نیشنل پاٹی کے سینیٹر شاہی سید موجود تھے۔
صدر زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر داخلہ سے رابطہ رکھے گی تاکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے وقت کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو۔
صدر زرداری نے تمام جماعتوں کو یاد دہانی کرائی کہ یہ تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ شہر میں امن کی بحالی میں حکومت کی مدد کریں۔اس ملاقات کے بعد صوبائی وزیر رضا ہارون نے میڈیا کو بتایا متحدہ قومی موومنٹ نے ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔
اس موقعے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی کا کہنا تھا کہ شہر میں امن کی بحالی کے لیے کچھ فیصلے ہوئے ہیں مگر وہ انہیں ظاہر نہیں کریں گے، بقول ان کےجو آپریشن لیاری میں ہوا تھا اب وہ شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی نظر آرہا ہے۔
دوسری جانب کراچی میں ان فیصلوں کے ساتھ پولیس افسران کے تبادلے بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ڈی آئی جی ویسٹ بھی شامل ہیں، ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات اسی علاقے میں پیش آئے تھے۔
دوسری جانب صدر زرداری نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پنجاب میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو پانچ روز گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملرز ایسو سی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات میں انہوں نے حکومت کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے منصوبہ بنانے کی ہدایت کی۔ صدر زرداری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سٹیٹ بینک کے گورنر، ٹیکسٹائل ملرز اور وفاقی وزیر ایک اجلاس منعقد کریں جس میں فصل کی انشورنس کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







