توہینِ مذہب: امام کے خلاف گواہ منحرف

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 14:29 GMT 19:29 PST

ملزم خالد جدون کے نائب کے بیان کو بنیاد بنا کر عدالت نے خالد جدون کو توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا تھا۔

اسلام آباد میں حال ہی میں ایک مسیحی لڑکی کو مبینہ طور پر توہین مذہب کے چھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے ایک ملزم اور مقامی مسجد کے امام کے خلاف بیان دینے والے دو افراد اپنے بیان سے منحرف ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار امام خالد جدون کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران مقامی علاقے کے دو گواہان اویس اور خرم شہزاد نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ اُنہوں نے پولیس کو دیے گئے بیان میں یہ نہیں کہا تھا کہ اُنہوں نے ملزم خالد جدون کو مسیحی لڑکی رمشاء کے خلاف مقدمے کے شواہد کو تبدیل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

جبکہ پولیس نے عدالت میں جمع کروائے گیے بیان میں کہا تھا کہ یہ افراد جو مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے خالد جدون کو قرانی صفحات راکھ میں شامل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں ملزم خالد جدون کی ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی تواس مقدمے کے اہم گواہ خرم شہزاد اور اویس نے عدالت میں بیان حلفی جمع کروایا کہ پولیس نے اپنے تئیں اُن کی طرف سے جمع کروائے گئے بیان حلفی میں ترمیم کی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایک تو یہ کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے اُن سے ڈرا دھمکا کر بیان لیا اور دوسرا یہ کہ پولیس افسر نے اس بیان میں ایسی ترامیم کیں جو اس مقدمے میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشاء کی ضمانت میں مدد مل سکے۔

ملزم خالد جدون کی ضمانت کی درخواست کی پیروی کرنے والے وکیل واجد گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ خرم شہزاد اور اویس نے قانون شہادت کی وفعہ ایک سو اکسٹھ کے تحت پولیس کو بیان دیا تھا جبکہ اسی مقدمے میں حافظ زبیر نے جو مجسٹریٹ کو بیان دیا تھا اُس میں بھی ان دونوں افراد کے پولیس کو دیے گئے بیان کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ جب دونوں گواہوں نے اپنا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا ہے تو پھر اُس کے بعد حافظ زبیر کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔

یاد رہے کہ حافظ زبیر مسجد میں ملزم خالد جدون کے نائب کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور اُن کے مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان کو بنیاد بنا کر عدالت نے خالد جدون کو توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا تھا۔

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے گُزشہ ماہ اسی مقدمے میں گرفتار رمشا مسیح کی ضمانت منظور کر لی تھی جس کے بعد حکومت نے حفاظتی نکتہ نظر سے اُسے اور اُس کے اہلخانہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

عدالت نے ضمانت کی اس درخواست پر ڈسٹرکٹ اٹارنی اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو تین اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی عبدالحفیظ پراچہ نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ دباؤ کے تحت اس مقدمے کی تفتیش میں حقائق تبدیل کر رہے ہیں۔

چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے سے متعلق جاری کیے گئے احکامات غیر مؤثر ہوگئے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ ایسے مقدمات کی سماعت سیشن جج ہی کرے گا جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے سول جج عامر عزیز کو اس مقدمے کی سماعت کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رمشاء کے خلاف اس مقدمے کے اخراج سے متعلق درخواست کی سماعت وکلاء کی عدم موجودگی کی وجہ سے سترہ اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>