کراچی: توہین رسالت کے ملزم کی موت

جیل (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن ڈیوڈ قمر کراچی سینٹرل جیل میں قید تھے (فائل فوٹو)

کراچی سینٹرل جیل میں توہین رسالت کے الزام میں قید ایک عیسائی قیدی کی موت واقع ہو گئی ہے۔

جیل حکام کے مطابق ڈیوڈ قمر پیغمبر اسلام کی توہین کے الزام میں قید تھے اور ان کی موت فطری تھی تاہم قیدی کے وکیل اور اہلخانہ نے اس پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔

سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ نصرت منگھن نے بی بی سی کے ریاض سہیل کو بتایا کہ ڈیوڈ قمر کی ہلاکت دل کا دورہ پڑنےسے ہوئی ہے۔

انہوں نے قیدیوں میں کسی جھگڑے یا تشدد کے الزامات کو مسترد کیا۔

ڈیوڈ قمر کو مئی سنہ دو ہزار چھ میں گرفتار کیا گیا تھا، ان پر الزام تھا کہ ان کے موبائل فون کے سِم سے پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز پیغام بھیجے گئے تھے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے ڈیوڈ قمر کو پچیس سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ڈیوڈ قمر تقریباً آٹھ نو سال قبل لاہور سے کراچی آئے تھے جہاں وہ کاسمیٹکس کا کام کرتے تھے، ان کی بیوی اور چار بچے لاہور میں رہتے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی کی ٹرنیٹی چرچ کے بشپ اعجاز عنایت کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کی فطری موت نہیں ہوئی اس لیے وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا مستند ڈاکٹر سے پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ’ پچھلے ہفتے قمر کی بیوی تبسم کو موبائل فون پر ایک فون کال آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اب تم کبھی اپنے شوہر کی آواز نہیں سن سکوں گی۔‘

ڈیوڈ قمر کے وکیل چودھری پرویز نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بشپ اعجاز کے موقف کی تائید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ’ ڈیوڈ کو جیل کے اندر دھمکیاں ملتی تھیں اور اس حوالے سے انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج اور ہائی کورٹ بار میں ایک درخواست بھی دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں کچھ لوگ جن میں جیل اہلکار اور وکلاء بھی شامل ہیں دھمکا رہے ہیں‘۔

وکیل نے بتایا کہ ایک مقدمے میں ڈیوڈ قمر کو سزا ہوئی تھی اور اسی نوعیت کا دوسرے مقدمہ ابھی عدالت میں زیر سماعت تھا۔

سینٹرل جیل حکام کی جانب سے قمر ڈیوڈ کی بیگم تبسم قمر کو ٹیلیفون پر اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے جو کراچی کے لیے لاہور روانہ ہوگئی ہیں۔

آئی جی سندھ جیلز غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ قمر کرسچن وارڈ میں قید تھے اور ان کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے، اگر ان کا خاندان چاہے گا تو اس کی تحقیقات کرائی جائے گی۔