مسیحی خاندانوں کی نقل مکانی

اسلام آباد کے جس علاقے سے گیارہ سالہ بچی کو توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اس علاقے میں رہنے والے دوسرے مسیحی خاندان بھی علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔
اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار ہونے والی بارہ سالہ مسیحی بچی کے کیس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کو پولیس نے ایک بارہ سالہ مسیحی بچی کو توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا تھا۔
کلِک توہین مذہب پر مسیحی بچی گرفتار
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر نے بچی کی گرفتاری کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے قومی آہنگی پال بھٹی کا کہنا تھا کہ بارہ سالہ مسیحی بچی کو توہین مذہب کے کیس کے سلسلے میں پولیس بہت دباؤ میں تھی اور اس وقت انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پولیس کے ساتھ بات ہوئی تھی اور وہ بھی اس واقعے پر قائل نہیں ہے۔
’پولیس کے کہنے کے مطابق وہ بہت دباؤ میں تھے اور بہت سے لوگ ان پر دباؤ ڈال رہے تھے۔ میں نے بھی ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو وہ بھی اس واقعے پر قائل نہیں تھے لیکن اس وقت ان کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں۔‘

’اس بچی کے والدین کی جان کو بھی خطرہ تھا اس لیے پولیس نے ان کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے‘
رمشاء نامی مسیحی بچی پر الزام ہے کہ اس نے قرآنی قاعدے کی بےحرمتی کرنے کے بعد اس کو نذر آتش کیا۔ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ اس بچی کو اسی روز چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ میں نابالغوں کے جیل میں منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مسیحی بچی کو توہین مذہب کی دفعہ دوسو پچانوے بی کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
پال بھٹی کے مطابق اس بچی کے والدین کی جان کو بھی خطرہ تھا اس لیے پولیس نے ان کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی آہنگی پال بھٹی نےکہا کہ اس واقعے کے بعد اس گاؤں سے چھ سو افراد نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کی طرف چلے گئے ہیں۔ ’وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور آئئ جی اسلام آباد نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔‘
"اس واقعے کے بعد اس گاؤں سے چھ سو افراد نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کی طرف چلے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اور آئئ جی اسلام آباد نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔"
پال بھٹی
انہوں نے کہا کہ قانون کا اگر غلط استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانون ہی غلط ہے۔ ’ہمارا ایک مائنڈ سیٹ بنا ہوا ہے کہ قانون کا غکلط استعمال کرنا ہے۔‘
پال بھٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائیں اور اور لڑکی کا میڈیکل بھی کرائیں۔
پال بھٹی نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ رمشا ذہنی طور پر معذور ہے اور وہ کوڑا کرٹ اکٹھا کیا کرتی تھی۔ وہ جمعے کو ایک پلسٹک کی تھیلی میں کوڑا لے کر جا رہی تھیجب کسی نے اس سے کہا کہ کوڑا اس کو دے دیا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب اس تھیلے کو کھولا گیا تو اس میں جلے ہوئے کچھ قرآنی نسخے تھے۔
’یہ بچی گیارہ سال کی ہے اور ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی ایسا مقصد تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ پولیس سٹیشن کے باہر ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا تھا جو اس آبادی پر حملہ بھی کرنا چاہتا تھا اور اس کو آگ بھی لگانا چاہتا تھا جس بستی میں یہ بچی رہتی تھی۔
’لوگوں کو یہ تو نہیں بتایا جاتا کہ اصل بات کیا ہے۔ بس ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ایسا واقعہ ہوا ہے۔ اس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔‘






























