توہین رسالت ترمیمی بل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ

قومی اسمبلی کی رکن شیری رحمن نے توہین رسالت کے قانون میں اصلاح کےلیے پیش کیےجانے والے اپنے بل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیری رحمنٰ نے کہا ہے انہوں نےاس بل کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کےاس بیان کے بعد کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

شیری رحمن پاکستان کے چند ایک ایسے سیاستدانوں میں سے ہیں جو توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد پاکستان میں دن بدن سیاستدان اس قانون کے بارے میں بولنے سےگریزاں ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرف سے توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی سےمتعلق بیانات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے گورنر پنجاب کے موقف سے لاتعلقی اختیار کی تھی۔

شیری رحمن نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے اعلان کے بعدان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اس بل کی پیروی نہ کریں۔

’اب جبکہ وزیر اعظم اعلان کر چکے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم سے متعلق کوئی بات نہیں ہو سکتی اور انہوں نے اس کمیٹی کو بھی ختم کر دیا ہے جسے توہین رسالت قانون کا جائزہ لینے کےلیے قائم کیاگیا تھا تو میرے پاس پارٹی کی ہدایت ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

شیری رحمن نے کہا کہ شدت پسندوں کو خوش کرنے کی پالیسی نقصان دہ ہوگی۔ شیری رحمن نے کہا کہ انہوں نے جو بل پرائیوٹ ممبر کے طور پر قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اس کو سپیکر قومی اسمبلی نے ایجنڈے پر رکھنے کی منظوری ہی نہیں دی تھی لہذا اسے واپس لینے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر سپیکر نے اس بل کو ایجنڈے پر آنے کی اجازت دی ہوتی تو اسمبلی کے کچھ اراکان کو پتہ چلتا کہ یہ بل توہین رسالت کے قانون کو مکمل طور ختم کرنے کی کوشش نہیں تھی بلکہ ہمارے پیغمبرِ اسلام کے نام پر ہونے والی زیادتیوں سے لوگوں کو چھٹکارا دلانا مقصود تھا۔‘