توہینِ مذہب: سکول ٹیچر پر تشدد

مذہبی عقائد کی توہین کرنے پر پاکستانی قانون کے تحت کسی ملزم کو دس سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے
،تصویر کا کیپشنمذہبی عقائد کی توہین کرنے پر پاکستانی قانون کے تحت کسی ملزم کو دس سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے

جنوبی پنجاب کے ضلع بھکر میں مذہبی عقائد کی توہین کے الزام میں تشدد کا نشانہ بننے والے سکول ٹیچر کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے جبکہ تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق بھکر کی نواحی بستی میں سکول ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک طالب علم نے اپنے استاد پر مذہبی عقائد کی توہین کرنے کا الزام لگایا۔

مقامی لوگوں نے اس پر احتجاج کیا اور سکول ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔

بھکر کے ضلعی رابطہ آفیسر آصف قریشی نے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق دس روز قبل سرکاری سکول میں مسلمان ٹیچر تنویر احمد نے اپنے جماعت میں ان دو طالب علموں کی سرزنش کی جو عید میلا البنی کے موقع پر بنائے گئے اس بیچ پر جھگڑ رہے تھے جس پر مذہبی عبارتیں درج تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ تنویر احمد نے ان سے بیج واپس لیا اور ان دونوں لڑکوں کی پٹائی بھی کی ۔تاہم طالب علم کا کہناتھا کہ ان کے ٹیچر نے بیج کی بے حرمتی کی تھی۔

ضلعی رابطہ آفیسر کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سنیچر کا ہے اور ایک دن کے وقفے کے بعد یعنی پیر کو مقامی لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کیا ۔ان کے بقول سکول انتظامیہ نے اس معاملے پر کمیٹی بھی بنادی تھی لیکن اسی دوران وہاں اڑھائی سے تین سو لوگ اکٹھے ہوگئے۔

ڈی سی او آصف قریشی نے بتایا کہ احتجاج کرنے والوں افراد نے ٹیچر تنویر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ بھی کی ۔تاہم پولیس نے مداخلت کرکے تنویر کو وہاں سے نکالا اور انہیں ملتان کے ایک ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بقول ان کے اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ضلعی رابطہ آفیسر نے بتایا ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنانے اور توڑ پھوڑ کرنے پر تین سو کے قریب افراد کے خلاف بھی درج کرلیا گیا ہے۔

آصف قریشی نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں امن کمیٹی کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ سکول ٹیچر تنویر احمد کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا تاہم اس ہسپتال میں پولیس کے اہل کار مامور ہیں جہاں پر ان کا علاج کیا جارہا ہے۔

پولیس کے مطابق سکول ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنانے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں تین سو کے قریب افراد کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے اور ان میں چالیس کے قریب افراد نامزد ہیں تاہم ابھی تک کسی نامزد ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

ہسپتال میں زیر علاج سکول ٹیچر کے گھر والوں سے ملاقات کرنے والے مقامی صحافی شکیل احمد نے بتایا تنویر کے گھر والوں کے بقول یہ ایک ذاتی جھگڑا تھا جس مذہبی رنگ دیا جارہا ہے ۔ ان کے بقول سکول میں ٹیچروں کے درمیان جھگڑا تھا اور ایک اب کہانی گھڑی گئی ہے۔

صحافی نے بتایا تنویر کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ یہ فرقہ واریت کا معاملہ نہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ کہیں اس معاملے کو فرقہ واریت کا رنگ نہ دے دیا جائے۔

دوسری جانب سکول ٹیچر کو ان کی ملازمت سے معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے مذہبی عقائد کی توہین کرنے پر پاکستانی قانون کے تحت کسی ملزم کو دس سال قید یا جرمانے یا پھر دونوں سزا سنائی جاسکتی ہے۔