کیا کوئی حکومت، اس بہادری کی متحمل ہو سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عامر احمد خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
فوری طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے پیچھے کون سا فوری مقصد کار فرما تھا۔
شہباز بھٹی نے پاکستان میں توہینِ رسالت کے قانون میں موجود خرابیاں دور کرنے کا بیڑا ضرور اٹھایا تھا لیکن ان کا عزم حکومت کی سیاسی مصلحتوں اور کمزوریوں کی نذر ہو گیا۔ یوں وہ جنگ جو نہ صرف ان کے بلکہ پورے ملک کے سیاسی و سماجی مستقبل کا تعین کر سکتی تھی چھڑنے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔
توہینِ رسالت کے قانون پر حکومتی موقف کی حتمی پسپائی کے بگل اتنی شان سے بجے کہ اس کا اعلان کہیں اور سے نہیں بلکہ وزیرِ اعظم کی اپنی زبان سے ہوا۔ پچھلے مہینے یوسف رضا گیلانی نے ملتجی ہو کر مذہبی شخصیات کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ وہ ان کی اس بات کا یقین کر لیں کہ حکومت توہینِ رسالت کے قانون پر نظرِ ثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
پنجاب کے گورنر کے خون میں ڈوبی اس پسپائی کے بعد شہباز بھٹی چاہتے بھی تو کیا کر سکتے تھے۔ سلمان تاثیر منجھے ہوئے سیاست دان، جانی پہچانی مجلسی شخصیت اور صدر زرداری کے بہت سے ارب پتی دوستوں میں سے ایک تھے۔ ان کے مقابلے میں شہباز بھٹی نہ تو ایسے منصب کے حامل تھے اور نہ ہی ریاستی ایجنڈے پر اثرانداز ہونے والی سیاسی قوت کے مالک۔
کسی حد تک اس بات کا ثبوت سوشل میڈیا پر انتہا پسندوں کی پراسرار خاموشی سے بھی ملتا ہے۔ شہباز بھٹی کے قتل کے بعد یہاں لے دے کے آپ کو دکھ میں ڈوبی ہوئی چند ایک آوازیں سنائی دیں گی جو پاکستان کے معروف ترین لبرل افراد کی ہیں۔ اور ان میں بہت سے تو ملک میں رہتے بھی نہیں۔
شہباز بھٹی کو قتل ہوئے گھنٹوں بیت چکے ہیں لیکن سلمان تاثیر کے قتل کے چند ہی منٹوں بعد سوشل میڈیا پر آزادیِ رائے کے خلاف جس غضبناکی کا آغاز ہوا تھا، آج ویسا کچھ نہیں ہے۔فیس بک بھی شہباز بھٹی کے قاتلوں کی مدح سرائی سے اس طرح سے بھری ہوئی نہیں ہے جیسے سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تھی۔
انتہا پسندوں کی یہ خاموشی شاید اطمینان میں ڈوبا ہوا سکوت ہے جس کی بنیاد اس تسلی پر ہے کہ ان کے ایجنڈے کو کوئی خطرہ نہیں۔
تو پھر ایسے شخص کو کیوں قتل کیا گیا جو خود بھی یہی سمجھتا تھا اور اس کے اردگرد کی دنیا کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ اتنا غیر مؤثر ہے کہ وہ اپنے لیے مناسب سکیورٹی بھی حاصل نہ کر سکا حالانکہ پاکستان میں اسے لاکھوں کٹر افراد سے مستقل دھمکیاں مل رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کا جواب شاید اس فرق میں ہے جو حکومت اور انتہا پسندوں کی اپنے اپنے ایجنڈے سے وابستگی کے درمیان پایا جاتا ہے۔
سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حکومت کو اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے میں کچھ دیر نہ لگی۔ اس کا فیصلہ فوری اور واضح تھا کہ وہ توہینِ رسالت کے قانون سے دستکش رہے گی۔ وزراء نے بھی پسِ پردہ ایسے اشارے دیے کہ بھڑوں کے اس چھتے میں ہاتھ نہ ہی ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ ملک کے لبرل اور ملک کی سیاسی اور سماجی قیادت بھی اسی راہ پر چل پڑی تھی اور ان کا ایسا کرنا قابلِ فہم بھی تھا۔
شاید ان کی خاموشی میں یہ امید پنہاں تھی کہ اپنا ایجنڈا ترک کر کے ہو سکتا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو خاموش رکھ سکیں گے۔ گویا ایک ایسے قانون کو بدلنا جو ابھی تک ناانصافی کے سوا کسی کو کچھ نہ دے سکا حکومت کے لیے کسی نظریاتی عہد بندی کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ سیدھی سادی سیاست کا معاملہ تھا۔ سیاست بگڑی تو کیا صدر اور کیا وزیر اعظم، ہر کوئی سب کچھ چھوڑ کر گھر ہو لیا۔
ان کے مقابلے میں انتہا پسندوں کی اپنے نظریے سے گہری وابستگی دیکھیے۔ یہ بات بے محل ہے کہ مسٹر بھٹی کی جنگ کو جیت نہیں تھی یا یہ کہ وہ غیر مؤثر اور بے اختیار وزیر تھے۔ جو بات اہم ہے وہ یہ تھی کہ شہباز بھٹی نے ماضی میں توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف بات کی تھی اور اگر حالات تقاضا کرتے تو وہ پھر ایسا ہی کرتے۔ اسی وجہ سے وہ ایک ایسا ہدف بن گئے تھے جسے نہ برداشت کیا جا سکتا تھا اور نہ نظر انداز۔
سلمان تاثیر نے کہا تھا کہ وہ تنہا بھی رہ گئے تو بھی توہینِ رسالت کے قانون کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ لیکن وہ زیادہ رہے ہی نہیں۔
اور اُس نظریے کی طرف سے جو مسٹر تاثیر کے قتل کا سبب بنا تھا، اب ریاست کو ایک مزید پرُعزم اور خطرناک پیغام ملا ہے۔ یعنی یہ کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری لبرل کا بھی خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنے لبرل ایجنڈے سے اتنا ہی لگاؤ دکھانا ہوگا جتنا کہ انتہا پسندوں نے اپنی تنگ نظری سے دکھایا ہے۔
کیا یہ، یا کوئی بھی پاکستانی حکومت، اس بہادری کی متحمل ہو سکتی ہے؟







