
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشا کو ضمانت منظور ہونے کے بعد راولپنڈی کے اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
مقامی عدالت نے جمعہ کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشا کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنہیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچکلوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
کلِک رمشا کی بستی میں عجیب سی خاموشی
کلِک اصل میں ذہنی مریض کون ہے؟
ڈسٹرکٹ اٹارنی اور اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کریں گے۔
سنیچر کو پاک فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے رمشا کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں جن کی شناخت نہیں ہو پائی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں رمشا وہ پہلی کم سن ہیں جن پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
رمشا کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے قریب ہی ایک گراونڈ میں لایا گیا جہاں انھیں پہلے سے ہی موجود پاکستان کی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر میں فوری طور پر منتقل کیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ رمشا کو کہا لے جایا گیا ہے۔
رمشا نے سبز رنگ کی قمیص اور براؤن شلوار پہنی ہوئی تھی اور ہیلی کاپٹر میں منتقل کرتے وقت ان کا چہرہ چادر سے ڈھانپا ہوا تھا۔ لیکن جب وہ ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئیں تو انھوں نے اپنے چہرے سے چادر ہٹا دی۔
ان کے ہمراہ ایک نامعلوم خاتون نے ان کا چہرہ دوبارہ ڈھانپ دیا۔
جب رمشا کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے گراؤنڈ میں لایا گیا تو وہاں پہلے سے ہی تعینات پولیس کمانڈوز نے اس گاڑی کو اپنے حصار میں لے لیا۔ گراؤنڈ میں کئی مقامی لوگ جمع تھے لیکن کمانڈوز نے انھیں قریب نہیں آنے دیا۔
رمشا کی رہائی کے موقع پر جیل کے اندر اور باہر سخت سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے تھے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے گاؤں میرا جعفر کی رہائشی مسیحی بچی رمشا کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا جس کے بعد سے وہ آج تک اڈیالہ جیل میں قید تھیں۔ رمشا پر الزام ہے کہ انھوں نے قرآنی قاعدہ نذرِ آتش کیا تھا۔
بعد میں پولیس نے اسی مقدمے میں ایک مقامی مسجد کے پیش امام خالد جدون کو رمشا کے خلاف شواہد میں رد و بدل کرنے اور توہین مذہب کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جو اب اڈیالہ جیل میں ہیں۔






























