
رمشا کے گھر کا بند دروازہ
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار رمشا نامی عیسائی لڑکی کے طبی معائنے سے متعلق ضلعی انتظامیہ سے وضاحت طلب کرلی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ رمشا کے طبی معائنے کا عدالتی حکم اٹھائیس اگست کو دیا گیا تھا تو پھر اس کا میڈیکل ستائیس اگست کو کیسے کروا دیا گیا؟
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رمشا کے وکیل کی درخواست پر اُس کے موکلہ کی عمر اور ذہنی حالت کے تعین کے لیے پولی کلینک ہسپتال کو ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کو کہا تھا۔
میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں رمشا کی عمر چودہ سال کے قریب قرار دی تھی جبکہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اُس کی ذہنی حالت اُس کی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جواد عباس نے جمعرات کو رمشا کی ضمانت سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو اس مقدمے کے مدعی ملک حماد کے وکیل راؤ عبدالرحیم نے اس طبی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ میں شامل ڈاکٹروں نے رمشا کو غیر ضروری طور پر رعایت دی ہے اور یہ میڈیکل رپورٹ قانونی تقاضے پورے نہیں کرسکتی۔
اُنہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈاکٹر رمشا کی عمر کا تعین تو کرسکتے ہیں لیکن وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ملزمہ کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔
اُنہوں نے کہا کہ جب متعلقہ عدالت نے اٹھائیس اگست کو رمشا کا طبی معائنہ کروانے کا حکم دیا تھا تو پھر ایک دن قبل ہی اُس کا طبی معائنہ کیسے کروایا گیا؟
اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ رمشا کے وکیل طاہر نوید چوہدری نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور کہا کہ اگر عدالت چاہے تو نیا میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے سکتی ہے اور اُن کی موکلہ اس میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہونے کو بھی تیار ہے۔
"جب متعلقہ عدالت نے اٹھائیس اگست کو رمشا کا طبی معائنہ کروانے کا حکم دیا تھا تو پھر ایک دن قبل ہی اُس کا طبی معائنہ کیسے کروایا گیا؟"
راؤ عبدالرحیم نے عدالت سے استدعا کی کہ رمشا کی کم سِنی کو مدِنظر نہ رکھا جائے بلکہ یہ مقدمہ دیگر مقدمات کی طرح عام عدالت میں چلایا جائے۔
عدالت نے رمشا کی ضمانت کی درخواست یکم سمتبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ رمشا کے وکیل نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ اُن کی موکلہ کم سن ہے اور کم سن بچوں کے لیے جسٹس سسٹم کے تحت اُن کی ضمانت منظور کرلی جائے۔
یاد رہے کہ رمشا کی سیکیورٹی سے متعلق حکومت نے اسلام آباد پولیس سے کہا تھا کہ وہ ضمانت کی درخواست کی مخالفت کریں کیونکہ وہ جیل میں زیادہ محفوظ ہے۔
اس درخواست کی سماعت کے دوران وکلا کے ایک گروپ نے رمشا کے خلاف دائر مقدمے کی پیروی کے لیے درخواست دائر کی جسے عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ اس پر رمشا کے والدین کے دستخط موجود نہیں ہیں۔






























