توہینِ مذہب کی مسیحی ملزمہ کا طبی معائنہ

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 15:03 GMT 20:03 PST

پاکستان میں عیسائی اقلتیت سکیورٹی خدشات کا شکار ہے

توہین مذہب کے الزام میں گرفتار عیسائی لڑکی رمشا کی ذہنی حالت جانچنے اور اُن کی عمر معلوم کرنے کے لیے انہیں میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ادھر حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے حکومتِ پاکستان سے رمشا کو تحفظ فراہم کرنے اور توہینِ مذہب کے قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ دہرایا ہے۔

پولی کلینک ہسپتال کے جوائینٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد زاہد کی سربراہی میں قائم کیے گئے چار رکنی بورڈ نے پیر کو رمشا کا طبی معائنہ کرنے کے علاوہ اُس کے مختلف ٹیسٹ بھی کیے۔

ملزمہ کو سخت حفاظتی پہرے میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ہسپتال لایاگیا۔ اس موقع پر ہسپتال اور اُس کے گرونواح میں سخت خفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔

میڈیکل بورڈ نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک رمشا کا طبی معائنہ کیا جس کے بعد اُنہیں سخت حفاظتی پہرے میں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق یہ میڈیکل بورڈ تین روز کے اندر اندر حتمی رپورٹ متعقلہ عدالت میں پیش کرے گا۔

رمشا کے وکیل طاہر چوہدری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی موکلہ کی ضمانت کی درخواست کی سماعت اٹھائیس اگست کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ ضمانت کی اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس واقعہ کے نتیجے میں درج کیا جانے والہ مقدمہ توہین مذہب پر پورا نہیں اُترتا اور دوسرا یہ کہ یہ معاملہ ابھی مزید تفتیش طلب ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کمسنی کی وجہ سے بھی اُس کی موکلہ کو عدالت سے ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

"رمشا پر قائم مقدمہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے بےاثر ہونے اور توہینِ مذہب کے ملزمان کو درپیش خطرات کا ثبوت ہے۔"

پولی ٹرسکاٹ، ایمنٹسی انٹرنیشنل

طاہر چوہدری کے مطابق اُنہوں نے چند روز قبل اڈیالہ جیل میں رمشا سے ملاقات کی تھی جو رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اُن کی جلد از جلد ضمانت کروائی جائے۔

ذرائع کے مطابق رمشا کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے موقع پر عیسائیوں کے ایک گروپ کی طرف سے بھی ایک وکیل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

قومی ہم آہنگی سے متعلق وزیراعظم کے مشیر پال بھٹی نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ رمشا کو بہت جلد رہا کردیا جائے گا جبکہ امریکہ اور فرانس نے اس مقدمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رمشا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم نے پیر کے روز بھی جائے وقوع کا دورہ کیا اور آبادی کے مکینوں سے اس واقعہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کیں۔ پولیس نے اس مقدمے کا حمتی چالان ابھی تک عدالت میں جمع نہیں کروایا ہے۔

پیر کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا پولی ٹرسکاٹ نے کہا ہے کہ رمشا پر قائم مقدمہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے بےاثر ہونے اور توہینِ مذہب کے ملزمان کو درپیش خطرات کا ثبوت ہے۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ توہینِ مذہب کی ملزمہ مسیحی بچی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ملک میں اس حوالے سے موجود قوانین میں اصلاحات کی جائیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>