
رمشاء کے گھر والے اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہونے والی چودہ سالہ عیسائی لڑکی رمشاء کے جوڈیشل ریمانڈ میں چودہ دن کی توسیع کر کے اُنہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بھجوا دیا ہے۔
ملزمہ کو جمعہ کے روز سخت حفاظتی پہرے میں عدالت میں لایا گیا اور ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ آف پولیس رینک کے افسر کو رمشا کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ملزمہ رمشا کو اڈیالہ جیل سے بکتر بند گاڑی میں لایا گیا اور اُن کے آگے پیچھے پولیس کی چھ گاڑیاں موجود تھیں جس میں پولیس کے مسلح کمانڈوز سوار تھے۔
ملزمہ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اُس کے چہرے کو مکمل طور پر کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا۔ یاد رہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مجرم ممتاز قادری کو بھی بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔
مقامی عدالت کے جج انعام اللہ نے ملزمہ رمشاء کو نام لیکر روسٹم کے قریب بُلایا۔ یاد رہے کہ سولہ اگست کو توہین مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزمہ رمشاء کو اُسی روز اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا تھا اور قانون کے تحت مقدمے میں کسی بھی گرفتار شخص کو چودہ روز کے بعد دوبارہ عدالت میں پیش کرنا پڑتا ہے۔
مقدمے کے مدعی ملک حماد کی پیشی
پولیس کے مطابق اس مقدمے کا مدعی ملک حماد اس مقدمے کے اندارج کے بعد کچھ عرصہ تک اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے تاہم اب وہ روزانہ کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو رہے ہیں
ملک حماد کی مدعیت میں تھانہ رمنا کے علاقے کی رہائشی عیسائی لڑکی رمشاء کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا کہ اُنہوں نے قرآنِ پاک کے نوارانی قاعدے کو نظر آتش کیا تھا۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر منیر حسین جعفری نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس ابھی تک اس مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی۔ اُنہوں نے کہا کہ حساس نوعیت کے اس مقدمے میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی کو جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ رمشاء کے وکیل کی جانب سے اُن کی موکلہ کی ضمانت کی درخواست بھی اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت یکم ستمبر کو ہوگی۔
رمشاء کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اُن کے والدین اور قریبی رشتہ داروں میں کوئی بھی کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔ رمشا کو اب چودہ سمتبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں شواہد کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا مدعی کے دباؤ اور لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے توہین مذہب کی دفعات کا غلط استعمال تو نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ضمن میں پولیس کی پراسیکیوشن برانچ کی طرف سے بھی خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔
مقامی پولیس کے بقول اس مقدمے کا مدعی ملک حماد اس مقدمے کے اندارج کے بعد کچھ عرصہ تک اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے تاہم اب وہ روزانہ کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دو ہفتوں کے دوران اس مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے اس کا حتمی چالان متعلقہ عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔






























