ملا برادر سے خفیہ مذاکرات کی تردید

،تصویر کا ذریعہBBCPersian.com
- مصنف, طاہر خان
- عہدہ, بی بی سی پشتو، اسلام آباد
اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر داؤد زئی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ افغان حکومت کے ایک وفد نے پاکستان کی ایک جیل میں افغان طالبان تحریک کے سابق نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ خفیہ مذاکرات کیے ہیں۔
قومی سلامتی کے لیے افغان صدر کے مشیر رنگین دادفر سپنتا نے کابل میں کہا تھا کہ افغان حکومت کے ایک وفد نے دو ماہ پہلے ملا برادر سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی دادفرسپنتا کے بیان کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ یہ ملاقات ہو ئی تھی۔
پیر کو کابل میں افغان امن کونسل کے ایک رکن مسلم قاسم یار نے بھی کہا کہ افغان حکومت او ر پاکستان میں افغان سفارت خانے کے اراکین نے ملا بردار سے ملاقات کی تھی لیکن اسلام آباد میں افغان سفیر عمرداؤد زئی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغان وفد کی پاکستانی جیل میں ملا برادر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
انہو ں نے کہا کہ پاکستان نے افغان قیدیوں تک سفارتی رسائی دی ہے لیکن ان میں طالبان قیدی شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے ملا برادر سمیت تمام طالبان اور دیگر افغان قیدیوں کی رہائی اور انہیں افغان حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔
ملا برادر کو پاکستان اور امریکہ کے انٹیلی جنس اہلکاروں نے فروری 2010ء میں کراچی سے گرفتار کیا تھا۔
افغان طالبان کے بعد طالبان کی مرکزی شوریٰ نے ملا برادر کی جگہ محمد اختر منصور کو طالبان تحریک کا نائب مقرر کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ کوئی طالب قیدی کسی کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ملا بردار کی گرفتاری کے بعد طالبان کی شوریٰ نے ان سے تمام اختیارات اور ذمہ داریاں واپس لے لی تھیں۔
دریں اثناءافغان وزارت خارجہ نے بھی ملا برادر اور دیگر طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان جانان موسیٰ زئی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے بارہا پاکستان سے طالبان قیدیوں اور بالخصوص ان تمام طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو افغانستان میں امن کے عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اب تک افغان مطالبے کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ افغانستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ پاکستان ملا برادر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا۔







