’بلوچستان میں قیامِ امن اولین ترجیح ہے‘

بلوچستان میں احساس محرومی کافی عرصے سے پایا جاتا ہے: قمر زمان کائرہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں احساس محرومی کافی عرصے سے پایا جاتا ہے: قمر زمان کائرہ

مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں قیامِ امن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

دوسری جانب قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اس کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ دفاع نوید قمر کی سربراہی میں بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے قائم کردہ وزارء کمیٹی کے ارکان نے سنیچر کو کوئٹہ میں صوبائی کابینہ، آئی جی ایف سی، سپیکر بلوچستان اسمبلی کے علاوہ دیگر اہم حکام سے بات چیت کی۔

ان ملاقاتوں کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کے سربراہ نوید قمر نے کہا کہ بلوچستان میں اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر پہاڑوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہم سے بات نہیں کرنا چاہتے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم صوبے میں قیامِ امن کے لیے کوشش بھی نہ کریں‘۔

اس سے قبل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور کمیٹی کا مقصد بھی صوبے کے بنیادی مسائل کا جائزہ لیناہے۔

قمرالزمان کائرہ نے مزید کہا کہ بلوچستان میں احساس محرومی کافی عرصے سے پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے جب اقتدار سنبھالا تو صدرآصف علی زرداری نے نہ صرف صوبے کے ساتھ ماضی میں ہونے والے زیادتیوں پر بلوچستان کے عوام سے مافی مانگ لی تھی بلکہ احساسِ محرومی کو دور کرنے کے لیے نہ صرف آغازِ حقوق بلوچستان پیکج کے تحت صوبے میں بےروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا بلکہ صوبائی خودمختاری کے تحت صوبے کو ملنے والی فنڈز میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صوبے میں امن قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن جہاں ضرورت ہوگی وہاں وفاقی حکومت صوبے کی بھرپور مدد کرے گی۔

دوسری جانب قوم سیاسی جماعتوں نے کمیٹی کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے ملنے سے انکار کردیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ماضی کی طرح یہ کمیٹی بھی بے اختیار ہے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ جب تک بلوچستان میں حالات سازگار نہیں بنائے جاتے اس وقت تک اس قسم کے کمیٹیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بقول ان کے کہ کمیٹی کو ان لوگوں سے بات کرنی چاہیے جو اس وقت پہاڑوں پر ہیں، اس کے علاوہ لاپتہ افراد کومنظرعام پر لائیں اور مسخ شدہ لاشیں پھنکنے کا سلسلہ روک دیں تب جا کرحالات کی بہتری کے لیے کچھ ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے دو ہفتے قبل بلوچستان کے حوالے سے وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی اور ہدایت کی تھی کہ یہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کرے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے بھی بلوچستان بدامنی کیس کے دوران ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاؤان اور مسخ شدہ لاشیں ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔