برہنہ گشت کرانے والے افسران کا ریمانڈ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سندھ کے شہر گمبٹ میں ایک مرد اور نوجوان عورت کو برہنہ گشت کرانے کے الزام میں گرفتار ایس ایچ او سمیت چھ اہلکاروں کا ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کےمطابق ایس ایچ او خیر محمد سمیجو، اے ایس آئی امیر علی شر، اے ایس آئی غلام اکبر، اے ایس آئی رحیم بخش جامڑو اور دو پولیس اہلکاروں کو بغیر ہتھکڑیوں کے سول جج اور جڈیشل مئجسٹریٹ محمد مراد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے چودہ دن کے ریمانڈ کی درخواست کی، جسے قبول کر لیا گیا۔ دوسری جانب گرفتار ایس ایچ او کی ضمانت کے لیے ان کے وکیل نے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے۔
یاد رہے کہ گمبٹ تھانے پر سرکار کی مدعیت میں برہنہ گشت کرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جس میں تعزیرات پاکستان کے زیر دفعہ 220،354 اور 509 عائد کی گئی ہیں۔
گمبٹ تھانے کے ہیڈ محرر نذر جسکانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ملزم ایس ایچ او خیر محمد سمیجو، اے ایس آئی امیر علی شر، اے ایس آئی غلام اکبر، اے ایس آئی رحیم بخش جامڑو اور دو پولیس اہلکاروں نے ممتاز میر بحر، مسمات عظمیٰ اور مسمات ثمینہ کو اٹھائیس جولائی کی شب زنا کے ارادے کے الزام میں گرفتار کیا۔
مقدمے کے مطابق گرفتار افراد کو بیٹھک سے تھانے تک برہنہ حالت میں لایا گیا، جس سے ان کی تذلیل ہوئی اور پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
ایس پی عرفان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے بعد پولیس نے ایس ایچ او خیر محمد سمیجو ، اے ایس آئی رحیم بخش جامڑو اور دو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں گزشتہ شب مفرور اے ایس آئی غلام اکبر اور امیر علی شر کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی گمبٹ صغیر مغیرو کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ اس سے پہلے ایس پی خیرپور عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ جس جگہ پر پولیس نے چھاپہ مارا وہاں فحاشی کا اڈہ تھا لوگوں نے ایس ایچ او کو شکایت موصول ہوئی تھی جب پولیس نے لوگوں کے ساتھ چھاپہ مارا تو وہاں واقعی فحاشی کا اڈہ موجود تھا، جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر میں ایس پی کے اس موقف کی نفی ہوتی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وہاں کوئی نجی شخص موجود نہیں تھا اس لیے پولیس خود ہی مدعی اور خود ہی گواہ بنی۔







