آئی ایس آئی، سی آئی اے سربراہان کی ملاقات

،تصویر کا ذریعہOther
جمعرات کے روز امریکہ اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے سربراہان کے بیچ ملاقات ہوئی جس کو امریکی اہلکار نے ’کارآمد‘ قرار دیا۔
اہلکار کے مطابق، لفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ، ڈیوڈ پیٹریاس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بات چیت، کارآمد، سیر حاصل اور پیشہ ورانہ رہی۔
دونوں عہدیداروں نے دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا۔ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے سربراہوں نے اتفاقِ رائے کیا کہ خطے میں موجود دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں جو امریکہ اور پاکستان، دونوں کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے بیچ تعلقات میں بہتری اور تناوع میں کمی کی طرف اشارہ ہے۔
لفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام اس وقت امریکہ کے دورے پر ہیں اور گزشتہ ایک سال میں یہ آئی ایس آئی کے کسی بھی سربراہ کا پہلا امریکی دورہ ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے اس بات کا موقع ملا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں کو کیسے بہتر بنایا جائے۔
اہلکار نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا۔ امریکہ اور آئی ایس آئی کے تقلقات گزشتہ کئی سالوں میں دوستانہ سے لے کر شدید تناؤ کا شکار بھی رہ چکے ہیں۔
اس ملاقات میں دیے گئے بیانات امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ جنرل جان ایلن کے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کی تائید کرتے ہیں۔ بیان میں جان ایلن نے دونوں ممالک کی جانب سے تعاون میں بہتری کے لیے اہم پیش رفت کی تعریف کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے خفیہ اداروں اور فوج کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی فوجیوں نے پاکستانی حدود میں گھس کر دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد اوسامہ بن لادن کو مار دیا تھا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت مزید خراب ہوئے تھے، جب گزشتہ سال نومبر میں افغانستان میں تعینات اتحادی فوج میں شامل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فوجی چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں چوبیس پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔
پاکستانی حکومت نے اس حملے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے خوراک اور دیگر سامان کی فراہمی پر پابندی لگا دی تھی۔
تاہم گزشتہ ماہ امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے فوجیوں کی ہلاکت کے لیے معافی کے بعد پاکستان کی رسد کی بحالی سے دونوں ممالک کے بیچ تناؤ میں کمی آئی ہے۔
منگل کے روز پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے جس کے تحت یہ رسد سنہ دو ہزار پندرہ کے آخر تک جاری رکھی جائے گی۔
امریکی حکام نے اکثر پاکستان کے خفیہ اداروں پر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ روابط کے الزامات لگائے ہیں۔







