سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کا نیا قانون کالعدم قرار دے دیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ نے موجودہ پارلیمنٹ کی طرف سے بنائے گئے توہین عدالت کے نئے قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دو ہزار تین کے توہینِ عدالت کے قانون کو بحال رکھنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کا پُرانا قانون بارہ جولائی سے ہی نافذ العمل ہوگا جس دن سے توہین عدالت کا نیا قانون لاگو کیا گیا تھا۔
جمعہ کو نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کہا ہے کہ اس قانون میں جو بھی ترامیم کی گئی ہیں وہ پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کچھ لوگوں کو استثنیٰ دینا آئین ِ پاکستان کے منافی ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے اس لیے عوامی عہدہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو توہینِ عدالت سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مختصر فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ نئے قانون کا سیکشن تین آئین سے متصادم اور سیکشن آٹھ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کے سیکشن دو سو اڑتالیس کے تحت سرکاری عہدہ رکھنے والے کسی شخص کو توہین عدالت کرنے پر استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔
کالعدم قرار دیے گئے قانون کے سیکشن تین کے تحت وزیراعظم، وفاقی وزراء اور دیگر افراد کو سرکاری امور کی انجام دہی میں توہین عدالت کے مرتکب قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ اس کے علاوہ عدلیہ سے متعلق ایسے ریمارکس جو کہ نیک نیتی سے دیے گئے ہوں اُن پر بھی توہین عدالت نہیں لگے گی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ججز کے کردار کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا اور اس نئے قانون کے تحت اپیل کے حق کو تیس دن سے بڑھا کر ساٹھ دن کرنا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کے پُرانے قانون کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے اُنہیں نااہل قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے متعلقہ حکام کو خط لکھنے کے لیے آٹھ آگست کی مہلت دی ہے۔
توہین عدالت کے نئے قانون سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت کے وکیل عبدالشکور پراچہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اس نئے قانون کا مقصد نئے وزیراعظم کو توہین عدالت سے بچانا ہے۔
اس سے قبل سماعت کے دوران سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو کوئی استثنی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عدالت مقننہ اور انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے اُن کے ساتھ چلے تاکہ ملک میں جمہوری ادارے تقویت پکڑ سکیں۔
اس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنا عدالتوں کا کام نہیں ہے، عدالتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں اور کسی سے مک مکا نہیں کرتیں۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اُنہوں نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بات ایک مثبت انداز میں کی ہے اور اسے منفی نہ لیا جائے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدرِ پاکستان نے گزشتہ ماہ ہی توہینِ عدالت کے نئے قانون پر دستخط کیے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون پہلے سے موجود توہینِ عدالت کے قانون میں موجود ابہام دور کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور اس کا مقصد عدلیہ کے اختیارات میں کمی نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔







