چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف انکوائری رک گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے صاحبزادے اور بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے درمیان پیسوں کے مبینہ لین دین کے بارے میں تحقیقات کے لیے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔
نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر جنرل فنانشنل کرائم کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔
نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے کے آغا نے اس عدالتی فیصلے پر اعتراض اُٹھایا جو مسترد کر دیاگیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس تحقیقاتی ٹیم کو دو روز کے لیے کام کرنے سے روکا گیا ہے اس سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔
سماعت کے دوران عدالت میں ایک ویڈیو بھی دیکھائی گئی جس میں نظر آ رہا تھا کہ اسلام آباد پولیس کے ایس پی رورل فیصل میمن بارہ جون کو پیشی کے دوران ملک ریاض کے ساتھ ساتھ تھے جبکہ اُن کی ڈیوٹی بھی نہیں لگائی گئی تھی۔ سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ ایسے پولیس افسر کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کر لیاگیا جو کہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
عدالت نے اس معاملے پر سیکرٹری داخلہ اور ایس پی فیصل میمن سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے اور اُنہیں آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے خلاف ڈاکٹر ارسلان افتخار کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
ڈاکٹر ارسلان افتخار کے وکیل سردار اسحاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے اس معاملے کی تحققیات کے لیے نیب حکام کو خط لکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات سے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا اُس میں اٹارنی جنرل بھی مثاثر ہوئے تھے اس لیے تعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔ عرفان قادر نے پرویز مشرف کے دوسرے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینچ کے سربراہ نے سردار اسحاق کے اس تاثر کو غلط قرار دیا۔ ڈاکٹر ارسلان کے وکیل نے کہا کہ اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے ملک ریاض سے مالی فوائد اُٹھائے ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اگر اُن کے پاس اس ضمن میں کوئی ثبوت ہیں تو پیش کریں۔
سردار اسحاق کا کہنا تھا کہ اس ٹیم میں شامل افسران کی ماضی کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جائے تو سب کچھ کُھل کر سامنے آجائے گا۔
نیب کے پراسکیوٹر جنرل کے کے آغا نے عدالت سے استدعا کہ چونکہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے اس کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا ہےکہ چونکہ یہ معاملہ چند افراد کے درمیان ہے اس لیے لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔
یاد رہے کہ اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے ڈاکٹر ارسلان افتخار اور ملک ریاض پیش ہوچکے ہیں تاہم چیف جسٹس کے صاحبزادے نے ابھی تک کوئی تحریری جواب جمع نہیں کروایا جبکہ ملک ریاض نے اپنا جواب تحریری شکل میں جمع کروایا ہے۔







