نوجوان ڈاکٹروں کا احتجاج دوبارہ شروع

چند ہفتے پہلے ڈاکٹروں نے سروس سٹرکچر کے حصول کے لیے بیس روز تک ہڑتال کی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچند ہفتے پہلے ڈاکٹروں نے سروس سٹرکچر کے حصول کے لیے بیس روز تک ہڑتال کی تھی

پنجاب میں نوجوان ڈاکٹرز نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات کے لیے پرامن احتجاج شروع کر دیا ہے تاہم اس مرتبہ احتجاج کے دوران ڈاکٹروں نے ایمرجنسی، آؤٹ ڈور اور وارڈز میں کام جاری رکھا ہے۔

پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز اپنے سروس سٹرکچر کے لیے پہلے بھی کئی مرتبہ ہڑتال اور احتجاج کر چکے ہیں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ناصر عباس نے بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کو بتایا کہ ان کا احتجاج پرامن رہے گا اور وہ اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے رہیں گے۔

ڈاکٹروں نے احتجاج کے دوران بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کیا اور لاہور کے جنرل ہسپتال میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا جس میں ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو اپنے مطالبات سے متعلق حکومتی رویے سے آگاہ کیا گیا اور آئندہ احتجاج کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔

ینگ ڈاکٹرز کے ترجمان نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں وہ نواز شریف، عمران خان اور پرویز الٰہی سمیت مختلف سیاستدانوں سے رابطے کرنے کا ارارہ رکھتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اسحاق ڈار، پرویز رشید اور سیکرٹری صحت سے بدھ کی رات بھی ان کے مذاکرات ہوئے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ ترجمان نے کہا کہ خاص طور پر بھرتیوں اور ترقیوں سے متعلق معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

چند ہفتے پہلے ڈاکٹروں نے سروس سٹرکچر کے حصول کے لیے بیس روز تک ہڑتال کی تھی۔ اس ہڑتال کے دوران ینگ ڈاکٹرز کے تیس نمائندوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ تنظیم کے اجلاس میں ہڑتال کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت پر ڈاکٹروں کو رہا تو کر دیا گیا لیکن عدالت نے ڈاکٹروں کو حکم دیا کہ وہ ہڑتال ختم کر دیں۔ ہائیکورٹ نے ڈاکٹروں کو جاری کیے گئے شو کاز نوٹسز اور ان کے تبادلوں پر عملدرآمد بھی روک دیا تھاـ

تاہم ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف انتقامی کاروائی کی گئی یا انھیں بند گلی میں دھکیلا گیا تو وہ دوبارہ ہڑتال کا راستہ اختیار کریں گے۔