خیبرایجنسی: نیٹو کنٹینرز پر حملہ، ایک ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کو سامان رسد لے جانے کنٹینرز پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا ہے۔

نیٹو افواج کو سپلائی کھولنے کے بعد افغانستان جانے والے کسی کنٹینر پر یہ پہلہ حملہ ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کو جمرود تحصیل کے علاقے ٹیڈی بازار میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے تین کنٹینرز جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ان کنٹینرز پر فائرنگ کردی۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد افغان شہری بتائے جاتے ہیں۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی اگر یہ سپلائی جاری رہی تو وہ نیٹو گاڑیوں پر حملے کرتے رہیں گے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان کی سپلائی کھولنے کے بعد یہ کسی کنٹینر پر پہلہ حملہ بتایا جارہا ہے۔

گزشتہ سال مہمند ایجنسی میں اتحادی افواج کے ہاتھوں سلالہ کے مقام پر چوبیس پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد نیٹو افواج کو سامان کی سپلائی سات ماہ تک معطل رہی تھی۔ تاہم حال ہی میں یہ سپلائی کھولی گئی ہے۔

نیٹو سپلائی کھولنے کے فیصلے پر ملک کے سیاسی اور مزہبی جماعتوں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کچھ جماعتیں سپلائی کھولنے کے خلاف احتجاج بھی کررہی ہیں۔