صبح صحافی، شام کو سکیورٹی گارڈ

’ یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن اپنے ہی ملک میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے اور روزی اور بال بچوں کی خاطر سخت محنت مشقت کرنا پڑے گی۔‘اقبال آفریدی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’ یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن اپنے ہی ملک میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونگے اور روزی اور بال بچوں کی خاطر سخت محنت مشقت کرنا پڑے گی۔‘اقبال آفریدی

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشنز اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کے باعث زیادہ تر قبائلی صحافی گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ کئی اخبار نویسوں کو سچ لکھنے کی خاطر جان کی قربانی بھی دینی پڑی۔

لیکن ان میں کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جو آج کل پناہ گزین ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت بھی کرتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کےلیے سخت محنت مشقت بھی کرنے پر مجبور ہیں۔

ایسے ہی ایک قبائلی صحافی اقبال آفریدی بھی ہیں جو تقریباً بیس سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

وہ آج کل دو صحافتی اداروں کے ساتھ منسلک ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پشاور میں کپڑوں کی ایک دوکان میں جز وقتی طور پر سکیورٹی گارڈ کی نوکری بھی کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز شام کے وقت کلاشنکوف ہاتھ میں تھامے دکان کے باہر ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں۔

اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ ’ آج کل دن ایسے گزر رہے ہیں کہ صبح کے وقت صحافی اور شام کو سکیورٹی گارڈ ہوتے ہیں‘۔

تین سال پہلے جب خیبر ایجنسی کے علاقہ باڑہ میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا تو اقبال آفریدی خاندان سمیت علاقہ چھوڑ کر پشاور منتقل ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور آ کر انہیں معلوم ہوا کہ گھر بار چھوڑنے سے ان کے تمام خرچے بڑھ گئے ہیں۔

ان کے مطابق تب سے انہوں نے صحافت کے ساتھ ساتھ دوسری نوکری کی تلاش شروع کی کیونکہ صحافت سے تو انہیں بمشکل پانچ سے چھ ہزار روپے ماہوار مل رہے تھے جو ناکافی تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں جبکہ بچوں کی سکول فیس ، بجلی ،گیس کے بل اور گھر کے دیگر اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ شرمندگی سے بچنے کی خاطر مجبوراً سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میری آٹھ ہزار روپے تنخواہ ہے اور ہر ماہ کچھ بونس بھی مل جاتا ہے جس سے تنخواہ دس گیارہ ہزار روپے تک بن جاتی ہے جس سے بمشکل گزارہ ہورہا ہے ۔‘

اقبال آفریدی محکمہ ٹیلی فون میں بطور ٹیکنیشن بھی کام کرچکے ہیں تاہم پولیٹکل انتظامیہ کے دباؤ کے باعث انہوں نے محکمہ ٹیلی فون سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی جبکہ کچھ عرصہ تک وہ ایک گیسٹ ہاؤس کے مینیجر بھی رہے لیکن وہاں بھی کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ وہ قبائلی صحافیوں کی تنظیم ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے باقاعدہ رکن بھی ہیں۔

قبائلی علاقوں سے بےدخل ہوئے بیشتر صحافی بدستور دیگر علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن فاٹا میں کشیدگی کے باعث یہ صحافی کسی نہ کسی صورت میں ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ضرور منسلک ہیں تاہم میڈیا کے اداروں میں معاشی مسائل کے باعث ان صحافیوں کی نوکریاں یا تو ختم ہوگئی ہیں یا ان کی تنخواہیں کم کردی گئی ہیں۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فاٹا کے صحافیوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔