ملتان میں ضمنی انتخاب، پولنگ ختم

،تصویر کا ذریعہ
ملتان میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔
اس نشست پر سابق وزیراعظم کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کا مقابلہ آزاد امیدوار شوکت حیات بوسن سے ہے۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئے انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت ہونے والا یہ پہلا الیکشن ہے۔
حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کو امیدوار نامزد کیا تھا تاہم ان کے مدمقابل حزب مخالف کی کسی بھی جماعت نے اپنا براہ راست امیدوار کھڑا نہیں کیا۔
ملتان کے اس حلقہ میں یوسف رضا گیلانی کے روایتی حریف اور سابق وفاقی وزیر سکندر حیات خان بوسن تحریک انصاف میں شامل ہونے کی وجہ سے ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لے رہے تاہم ان کے جگہ ان کے بھائی شوکت حیات خان بوسن آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔
سکندر بوسن اپنے بھائی کے انتخابی مہم میں پیش پیش رہے اور جماعت اسلامی بھی تحریک انصاف کے رہنما کے بھائی شوکت بوسن کی حمایت کر رہی ہے۔
مسلم لیگ نون نے ان ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑا کرنے کے بجائے آزاد امیدوار شوکت حیات بوسن کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ مسلم لیگ نون کے طرف سے سابق رکن پنجاب اسمبلی اسحاق بچہ نےکاغذات جمع کرائے تھے تاہم وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔
ضمنی انتخاب الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نئے ضابطۂ اخلاق کے تحت ہورہا ہے اور پہلی بار امیدواروں کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن تک لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ استعمال کرسکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پہنچانے کے لیے الیکشن کمیشن نے ٹرانسپورٹ فراہم کی ہے جبکہ پولنگ اسٹشین کے قریب امیدواروں کو اپنے کمیپ لگانے کی اجازت نہیں ہیں اور الیکشن کمیشن کا عملہ ووٹروں کو ان کے ووٹ کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گا۔
اس مرتبہ ووٹروں کو ان کے ووٹ کی پرچی امیدوار کی بجائے خود الیکشن نے ڈاک کے ذریعے پہنچائی ہے۔
ملتان کے مقامی صحافی شکیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ضمنی انتخاب میں ٹرن آؤٹ خاصا کم رہتا ہے اور نئے صابطہ اخلاق کے باعث ٹرن آؤٹ مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔







