حقانی نیٹ ورک کے خلاف بل منظور

امریکی کانگریس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکی انتظامیہ حقانی نیٹ ورک کے کئی سرکردہ افراد کو دہشتگرد قرار دے چکی ہے لیکن وہ اب بھی اس بات پر غور کررہی ہے کہ آیا پوری تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا جائے یا نہیں

امریکی پارلیمینٹ کے ایوان زیریں نے حقانی نیٹ ورک کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی غرض سےامریکی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک بل کی منظوری دیدی ہے۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن امریکی کانگریس کو بتائیں کہ کیا حقانی نیٹ ورک غیر ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیے جانے کے قابل ہے اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات بیان کریں۔

ابھی امریکی کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے اس بل کی حتمی منظوری ہونا باقی ہے۔ سینیٹ نے بھی دسمبر 2011 میں اسی طرح کے ایک بل کی منظوری دی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی انتظامیہ حقانی نیٹ ورک کے کئی سرکردہ افراد کو دہشتگرد قرار دے چکی ہے لیکن وہ اب بھی اس بات پر غور کررہی ہے کہ آیا پوری تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا جائے یا نہیں۔

حقانی نیٹ ورک مشرقی افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغان طالبان اور القاعدہ کا اتحادی ہے۔

امریکہ کہتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ افغانستان کے اندر امریکہ اور اسکی اتحادی فوجوں پر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین کو استعمال کرتا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان نے اس بل کی منظوری ایسے وقت دی ہے جبکہ چند ہفتے پہلے ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سات ماہ سے جاری تعطل ختم ہوا ہے اور امریکہ کی معافی کے بعد پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو کی فوجوں کو رسد کی فراہمی کے لیے اپنے راستے دوبارہ کھولے ہیں۔

اے پی کے مطابق بل میں کہا گیا ہے کہ ’اس قانون کے کسی بھی حصے سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر فعال جنگجو اور دہشتگرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی خودمختاری پر ضرب لگائی جارہی ہے۔‘

امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے حال ہی میں امریکی کانگریس کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کے طاقتور خفیہ فوجی ادارے آئی ایس آئی کے حقیقی بازو کے طور پر کام کرتا ہے۔