نیٹو کنٹینرز افغانستان کے لیے روانہ

کسٹم حکام نے کنٹینرز کی سکینگ کے بارے بعد انہیں افغانستان جانے کی اجازت دی
،تصویر کا کیپشنکسٹم حکام نے کنٹینرز کی سکینگ کے بارے بعد انہیں افغانستان جانے کی اجازت دی

افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے سامان کی ترسیل کے لیے چار کنٹینرز انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے دوران خیبر ایجنسی میں طورخم کے راستے افغانستان روانہ ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ چاروں کنٹینرز میں خوراک کا سامان تھا اور یہ کنٹینرز سات ماہ سے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے کسی خفیہ مقام پر رکے ہوئے تھے۔

آج تحصیل جمرود میں قائم نیٹو کنٹینرز کے ٹرمینل میں ان گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال یا سکیننگ کی گئی جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں کی حفاظت میں کنٹینرز طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر پہنچے۔ سرحد پر کسٹم حکام کی کاغذی کارروائی کے بعد کنٹینرز افغانستان روانہ ہوگئے جہاں افغان اور اتحادی افواج کے اہلکار موجود تھے۔

طورخم بارڈر پر موجود مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی اطلاع تھی کہ یہ کنٹینرز جمعرات کی صبح کسی وقت سرحد عبور کریں گے لیکن سکیننگ اور کسٹم حکام کی کارروائی کے بعد شام کے وقت ان کنٹینرز کو افغانستان روانہ کیاگیا ۔

انھوں نے کہا کہ جمرود سے طورخم بارڈر تک تقریباً پینتیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور اس سارے راستے پر کنٹینرز کے ہمراہ سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں موجود تھیں جبکہ راستے پر قائم سکیورٹی پوسٹوں پر اہلکار چوکس تھے ۔

خیبر ایجنسی میں طور خم اور بلوچستان میں چمن کے راستے اب تک آٹھ کنٹینرز افغانستان جا چکے ہیں اور یہ تمام کنٹینرز سات ماہ سے زیادہ وقت تک خفیہ مقام پر سامان سمیت رک رہے ۔

مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پرگزشتہ سال نومبر میں نیٹو افواج کے حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے پاکستان سے سامان کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس پابندی کے بعد بڑی تعداد میں کنٹینرز واپس کراچی چلےگئے تھے۔

کراچی سے نئے سامان سے لوڈ کنٹینرز اور ٹینکرز ابھی تک پاک افغان سرحد پر نہیں پہنچے ہیں۔