افغان شدت پسندوں کا پاکستانی حدود میں حملہ

باجوڑ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کی جانب سے سرحد پار حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک مرتبہ پھر افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے پاکستان کی حدود میں حملہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس حملے کہ جواب میں کی گئی کارروائی کہ نتیجے میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی کے ذرائع کے مطابق نامعلوم شدت پسندوں نے افغانستان کی جانب سے باجوڑ ایجنسی کے علاقے کٹ کوٹ میں داخل ہو کر پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کٹ کوٹ کا علاقہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل لوئے ماموند میں شامل ہے۔ ذرائع نے فورسز کے اہلکاروں یا کسی اور کی ہلاکت کا ذکر نہیں کیا ہے۔

دریں اثناء اپنے آپ کو تحریک طالبان کے ایک کمانڈر مولوی فقیر کا ترجمان ظاہر کرنے والے شخص قاری عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے باجوڑ ایجنسی کی تحصیل لوئے ماموند اور ماموند کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے کیے ہیں جن میں جانی نقصان ہوا ہے۔

قاری عمر کے مطابق اس کے بارے میں مزید تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی۔

کچھ عرصہ سے افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سوموار کے روز ماموند کے اسی علاقے میں افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

اسی طرح اپر دیر میں بھی افغانستان کی جانب سے حملے ہوئے ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق دونوں جانب سے جانی نقصان ہوئے ہیں۔