کھاریاں:احمدی عبادت گاہ کے مینار مسمار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے گجرات میں منگل کی رات کو پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار مسمار کر دیے ہیں۔
یہ واقعہ گجرات کے علاقے کھاریاں میں پیش آیا جہاں سنہ انیس سو اسّی میں تعمیر کی گئی احمدیوں کی عبادت گاہ کے مینار گرائے گئے۔
گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر راجہ بشارت نے بی بی سی کو بتایا کہ احمدیوں کی عبادت گاہ کے بارے میں مقامی لوگوں نے درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ احمدیوں کی عبادت گاہ پر بعض ایسی چیزیں ہیں جو ایک مسجد کا تاثر دیتی ہیں تو ان کو ہٹایا جائے۔
جب ان سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ’آپ کو پتا ہے وہ کیا چیزیں ہیں‘۔
بعض مسلمان حلقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں کے میناروں اور ان پر لکھے ہوئے مختلف مقدس الفاظ سے مسجد کا تاثر ملتا ہے۔
گزشتہ دنوں گڑھی شاہو لاہور میں بھی احمدیوں کی عبادت گاہ دارالذکر کے بارے میں ایک قانونی درخواست عدالت میں پیش کی گئی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ اس کے مینار دیکھ کر مسجد کا گمان ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے مینار گرانے اور کلمہ مٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔
مقامی ایس ایچ او راجہ زاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’تحفظ نبوت والوں نے ایک درخواست دی تھی جس پر ڈی ایس پی صاحب نے تمام مکاتب فکر کو اکٹھا کر کے مذاکرات کیے۔ اِن مذاکرات میں احمدیوں کے نمائندگان بھی تھےجن کی باہمی مشاورت اور رضامندی سے یہ مسئلہ حل ہوا‘۔
ایس ایچ او راجہ زاہد نے مزید بتایا کہ احمدیوں کی اس عبادت گاہ کے مینار مسمار کیے جانے پر احمدی فرقے کی رضا مندی شامل تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ یہ کارروائی ان کی رضا مندی سے ہوئی ہے۔ کیا ان کی رضا مندی کے بغیر کسی کے گھر میں کوئی داخل ہو سکتا ہے۔‘
تاہم احمدی فرقےکے مقامی عہدیدار ناصر ڈار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے یہ کارروائی ثاقب شکیل غازی نامی کے ایک شخص کی درخواست پر کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ثاقب شکیل نے احمدیہ بیت الذکر کھاریاں کے میناروں اور اس پر لکھی مختلف مقدس تحریرات کے بارے میں پولیس کو ایک درخواست دی تھی جس پر پولیس نے بغیر کسی ایف آئی آر اور مقدمہ درج کیے کارروائی کی۔
’ڈی ایس پی صاحب اور ایس ایچ او صاحب اپنی نفری کی ساتھ آئے اور ساتھ ٹی ایم او کی نفری بھی لائے اور مینار گرا دیے۔ بغیر کسی خط کے بغیر کسی عدالت کے احکامات کے زبردستی مینار توڑے۔‘
ناصر ڈار کے بقول پولیس نے عبادت گاہ کے بیرونی دروازے پر لکھے نعتیہ اشعار پر پینٹ پھیر دیا۔
ناصر ڈار نے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم نے کہا کہ جو آپ سمجھتے ہیں اسلامی شعائر اس کو آپ ہٹا سکتے ہیں ہم اس پر مزاحمت نہیں کر یں گے۔ لیکن ہمارے مینار آپ نہیں گرا سکتے کیونکہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ احمدی مینار نہیں بنا سکتے‘۔
خیال رہے کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کو سنہ انیس سو چوہّتر میں پارلیمان نے غیر مسلم قرار دیدیا تھا اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کےدور میں آنے والے ایک نئے قانون امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ان پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔







