بلوچستان سے آٹھ کان کنوں کا اغواء

ماضی میں بھی بلوچستان میں کئی کان کنوں اور کوئلے کے ٹھیکیداروں کو اغواء کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنماضی میں بھی بلوچستان میں کئی کان کنوں اور کوئلے کے ٹھیکیداروں کو اغواء کیا گیا ہے

بلوچستان کے علاقے مارواڑ سے نامعلوم مسلح افراد نے کوئلے کے آٹھ کان کنوں کو اغواء کر لیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سنیچر کے صبح کو مارواڑ کے علاقے سنجیدی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک مقامی کوئلہ کمپنی کے آٹھ کان کنوں کو اس وقت اغواء کر لیا جب وہ کان میں داخل ہونے والے تھے۔

مقامی لیویز کے مطابق مسلح افراد ان کان کنوں کو دوگاڑیوں میں ڈال کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق اغواء ہونے والے افراد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے ہے۔

واقعے کے بعد لیویز نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کردی ہے لیکن آخری اطلاع تک کوئی بازیابی عمل میں نہیں آئی تھی اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی بلوچستان میں کئی کان کنوں اور کوئلے کے ٹھیکیداروں کو اغواء کیا گیا جس میں اکثر واقعات کی ذمہ داری بلوچ مزاحمت کاروں نے قبول کی ہے۔

بلوچ مزاحمت کاروں نے ہمیشہ خبردار کیا ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے لہذا باہر سے لوگ آکر ان کو نکالنے سے گریز کریں۔