ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ، تفصیلات پارلیمنٹ کے پاس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں پارلیمنٹ کی عوامی اخراجات کی نگران پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججوں کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں دیے گیے پلاٹوں کی فہرست پیش کردی گئی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ رجسٹرار کی طرف سے کمیٹی میں جمع کروائے گئے بیان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججوں کے طرزِ عمل کو کسی بھی جگہ زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کی سربراہی میں منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی طرف سے ایک رپورٹ کمیٹی میں پیش کی گئی جس کے مطابق جن ججوں نے پلاٹ لیے اُن میں سپریم کورٹ کے تین حاضر سروس جج صاحبان بھی شامل ہیں۔
ججوں کی اس فہرست میں قائم مقام الیکشن کمشنر میاں شاکر اللہ جان کے ساتھ سپریم کورٹ کے دیگر دو جج جسٹس تصدق حیسن جیلانی اور جسٹس ناصر الملک کے نام بھی شامل تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پلاٹ حاصل کرنے والے ریٹائرڈ ججوں میں غیر آئینی قرار دیے جانے والے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ خلیل الرحمن رمدے، جاوید اقبال، فقیر محمد کھوکھر، نواز عباسی، سید سعید اشہد، سردار رضا، جاوید بُٹر، جمشید علی، غلام ربانی، فلک شیر اور زاہد حسین کے علاوہ سابق سیکرٹری قانون منصور خان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سیکرٹری سطح کے چھپن سرکاری افسران کو بھی دو دو پلاٹ دیےگئے اور ان میں موجودہ سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، سابق سیکرٹری داخلہ کمال شاہ، سابق آئی جی سندھ شعیب سڈل، ایف بی آر کے سابق سربراہ عبداللہ یوسف، نیب کے سابق چیئرمین نوید احسن اور وزیراعظم شوکت عزیز کے پرنسپل سیکرٹری خالد سعید بھی شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران ایک موقع پر کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایسے ججوں اور بیوروکریٹس کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے دو دو پلاٹ لیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان افراد کو اسلام آباد کے ڈی بارہ، جی تیرہ اور جی چودہ سیکٹروں میں پلاٹ دیے گئے ہیں۔ وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری کے مطابق یہ پلاٹ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائی گئی پالیسی کے تحت دیے گیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیٹی نے فوجی جرنیلوں کو دیےگئے پلاٹوں کی فہرست بھی طلب کرلی ہے ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف آئینی شقوں کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو کسی طور پر بھی کسی بھی کمیٹی میں طلب نہیں کیا جاسکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے انتظامی اور مالی امور بھی ججوں کے طرزِ عمل کے تحت آتے ہیں، اس لیے انہیں کہیں بھی زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے سابق چیئرمین چوہدری نثار علی خان کی طرف سے بھی اس ضمن میں خط لکھا گیا تھا جس کے جواب میں اس معاملے پر وضاحت کر دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آرمی چیف سمیت فوجی جرنیلوں ، وفاقی وزراء اور دیگر سیاست دانوں کے زیر استعمال بُلٹ پروف گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے قواعد میں تبدیلی کے لیے کہا تھا جس کے تحت ان گاڑیوں کے اخراجات وفاقی حکومت کی بجائے ان افراد کے متعلقہ ادارے اٹھائیں گے۔







