بے قصور ہونے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپاٹ فکسنگ کے جرم میں انگلینڈ میں سزا کاٹ کر حال ہی میں وطن واپس آنے والے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح عوام کے سامنے خود کو بے گناہ ثابت کرنا ہے۔
لاہور میں جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں سلمان بٹ نے کہا کہ دو سال سے وہ کرکٹ نہیں کھیل پائے ان کے آٹھ ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے وہ دن تو کوئی انہیں واپس نہیں کرسکتا لیکن لوگوں کو یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے تھے۔ کسی بھی نو بال کو کرنے یا کروانے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
سلمان بٹ کے بقول ان کے لیے سب سے اہم پاکستان اور پاکستان کے لوگ ہیں جن کے بیچ میں انہیں رہنا ہے۔ جہاں انہیں زندگی گزارنی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ کسی پریشانی کے بغیر یہاں رہ سکیں۔
پریس کانفرنس کے بعد سلمان بٹ نے بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کی کپتانی کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور یہ خود ان کی ذات کے لیے بڑی بات ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بحثیت پاکستان کی ٹیم کے کپتان وہ خود پر لگے اس داغ کو دھو دیں۔
سلمان بٹ نے کہا کہ جس کھلاڑی نے نو بال کروائیں اس کے اور مظہر مجید کے درمیان موبائل فون کے پیغام موجود ہیں جبکہ انہوں نے ان کو ملنے والے ایسے کسی پیغام کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان سے جو قصور سر زد ہوا اور جس کی وہ قوم سے معافی مانگتے ہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے ان کو کی گئی پیشکشوں کو آئی سی سی کو رپورٹ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن وہ مُصر تھے کہ انہوں نے کبھی کوئی پیشکش قبول نہیں کی اور میچ کے دوران کوئی ایسی حرکت نہیں کی۔
سلمان بٹ نے کہا کہ انہوں نے پریس کانفرنس میں میڈیا کو ایسے ثبوت دکھائے ہیں جو ان کی بے گناہی ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھی کھلاڑی کو سپاٹ فکسنگ کے لیے نہیں کہا۔
سلمان بٹ نے کہا کہ کرکٹ ان کا جنون ہے ان کی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ پاکستان کے لیے کرکٹ کھیلیں۔ان کے مطابق وہ آئی سی سی کی جانب سے لگائے گئی پابندی کے خلاف اپیل ثالثی کی عالمی عدالت میں دائر کر کے پابندی کو کم کرانے کی کوشش کرنے کا سوچ رہے ہیں اور ان کے قانونی مشیر اس پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اپیل کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور وہ اپنے وسائل سے یہ اپیل دائر کرنے کی استطاعت نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلمان بٹ نے پاکستانی میڈیا کے کردار پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا یہی میڈیا کسی کو ہیرو بنا دیتا ہے اور کسی کو بے حد رسوا کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا قصور ثابت ہونے سے پہلے مجرم بنا دیتا ہے۔







