سرحد پار سے ایک اور حملہ،’ آٹھ حملہ آور ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images
پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق افغان سرحد سے منسلک دیر بالا کے علاقے میں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بدھ کی شام ہونے والے حملے میں آٹھ سے زائد دہشت گردوں نے چوکی کو نشانہ بنایا اور جوابی کارروائی میں آٹھ شدت پسند مارے گئے۔
<link type="page"><caption> سرحدی دراندازی، ’پاک فوج انتہائی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110706_gillani_karzai_phone_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> دیر چوکی پر فوج کا کنٹرول بحال: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110606_pics_dir_checkpost_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
عسکری ذرائع نے پاکستانی فوج کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے میں اس علاقے میں سرحد پار سے ہونے والا یہ تیسرا حملہ ہے۔
اس سے قبل چوبیس جون کو دہشت گردوں کے حملے میں تیرہ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن کی ہلاکت کی ویڈیو بدھ کو ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جاری کی تھی۔
اس حملے میں افغانستان سے 100 سے زیادہ شدت پسندوں نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جہاں گشت پر موجود پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ایک ٹیم کی ان کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو ہی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی فوجوں کے کمانڈر جنرل جون ایلن سے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے پاکستانی حدود میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
اس سلسلے میں پاکستان میں افغانستان کے سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو بھی دفترِ خارجہ طلب کیا گیا اور افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر شدت پسندوں کی دخل اندازی پر شدید احتجاج کیا گیا۔
افغان سفارت کار کو مطلع کیا گیا کہ افغانستان کی حکومت مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے۔
خیال رہے کہ افغان سرحد سے متصل دیر بالا میں اس سے پہلے بھی متعدد بار سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں۔
سکیورٹی حکام کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند سرحد پار کر کے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور ان حملوں کے خلاف پاکستان متعدد بار افغان حکام سے باضابطہ احتجاج بھی کر چکا ہے۔
گزشتہ سال سرحد پار سے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر پاکستان کے وزیراعظم نے افغان صدر حامد کرزئی سے کہا تھا کہ سرحدی دراندازی پر پاکستانی فوج انتہائی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔







