جمہوریت کے لیے بری خبر: ایچ آر سی پی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی برخواستگی کو جمہوریت کے لیے ایک بری خبر قرار دیا ہے۔
کمیشن نے بیان میں کہا کہ شائد سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے۔
کمیشن کی سربراہ زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی ان کے عہدے سے علیحدگی پاکستان جیسے ملک میں انتہائی افسوس ناک بات ہے کیونکہ ملک میں جمہوری روایات پہلے ہی بہت کمزور ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں جمہوری روایات کو ہمیشہ ہی کچلا جاتا رہا ہے اور انہیں کبھی پروان چڑھنے کی مہلت ہی نہیں دی گئی۔
کمیشن کی سربراہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قانونی نظام کے لوازمات سے انکار نہیں کرسکتا لیکن فیصلے کا مفہوم اور معنی ایک پائیدار معاشرے سے کوئی رغبت نہیں رکھتے اور جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا ہے شاید اس کے بارے میں سوچ بچار ہی نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آمریت کے کئی ادوار کے بعد جمہوری نظام کو توانائی بخشنے اور مزید صدمات برداشت کرنے کی ریاستی استطاعت بہت مضبوط نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں جمہوری اداروں کو مناسب مشوروں اور رہنمائی سے مضبوط کرنے اور پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔
’زہرہ یوسف نے کہا کہ یہ اصول کہ جج صاحبان کو غیر معمولی طور پر محتاط ہونا چاہئے جب وہ ایسے مقدمات کا فیصلہ کر رہے ہوں جو ان کی اپنی عزت یا توہین کے متعلق ہیں، اس سے کہیں زیادہ عزت واحترام کا متقاضی ہے جتنا کہ بادی النظر میں اسے ملا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ توہین عدالت کے تصور اور سزا کی حد اور وسعت کے بارے میں بھی سوالات کو جنم دے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیشن کی سربراہ نے کہا کہ اس نازک وقت میں جمہوریت کو درپیش خطرات زیادہ سے زیادہ افہام وتفہیم کا تقاضہ کرتے ہیں اور ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے خطرات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بالآخر اس بات کا فیصلہ عوام نے ہی کرنا ہے کہ ان پر کس نے حکومت کرنی ہے۔
زہرہ یوسف نے اس امید کا اظہار کیا کہ ماحول کو اس حد تک خراب نہیں کیا جائے گا کہ عوام کی انتخابی ترجیحات کا تعین کرنا ہی ناممکن ہوجائے۔







