’ایم کیو ایم کی بھی ذمہ داری ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبۂ سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ مخلوط حکومت کا حصہ ہے اور کراچی میں امن و امان بہتر کرنے میں اس کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے جتنی حکومت کی ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعرات کو کراچی میں پولیس ہیڈ آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پولیس کے اعلٰی حکام کے ساتھ کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔
کراچی میں نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق اس سے قبل صوبۂ سندھ کی اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔
وزیراعلٰی سندھ نے کہا ’احتجاج کرنا ان (ایم کیو ایم) کا حق ہے لیکن وہ ہمارے اتحادی ہیں، ہم ان کی عزت کرتے ہیں اور ہمارے دوست ان کو منا کر لے آئے ہیں۔ میں ایک بات کروں گا کہ جب ہم پارٹنر ہیں کسی چیز میں تو ہم سب کی برابر کی ڈیوٹی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے جو کہ میں نے ان سے بھی کئی بار کہا ہے اور آج بھی کہتا ہے کہ ہم سب ایک کشتی میں سوار ہیں۔‘
پولیس کی کارکردگی پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس میں جو کوتاہیاں ہیں ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ ’میں پولیس کی کارکردگی سے کافی حد تک مطمئن ہوں لیکن کوتاہیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
قائم علی شاہ نے اس سوال کو نظرانداز کر دیا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کئی افراد لیاری سے گرفتار ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے جو اعتراف کیا ہے ان کو پریس کے سامنے ثبوت کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAP
پولیس میں سیاسی مداخلت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا ’ کم از کم میرے زمانے میں نہیں ہے۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ فلاں کو رکھو یا فلاں کو نہ رکھو۔ ہم نے یہ ذمہ داری پولیس کو ہی دی ہے کہ جو اچھے افسر ہیں انہیں رکھ لیں۔ اس میں بھی کچھ بہتری آئے گی۔‘
وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ دو دن پہلے ان کی ڈی جی رینجرز سے بات ہوئی تھی اور ان سے کہا تھا کہ جرائم کو ختم کرنا حکومت کا مقصد ہے اور ہمارا یہ ہی عزم ہے اور اس سلسلے میں تمام موجودہ وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس میں جو بھی نقائص ہیں ان کو دور کرنا چاہیے اور جو ضابطے ہیں ان پر ضرور عمل کریں تاہم میں نے سزا اور جزا کے عمل پر زور دیا ہے۔ جہاں کسی سے اپنے فرض میں کوتاہی ہوئی تو اس پر سرزنش ہوگی۔ کسی جرائم پیشہ فرد سے ڈرنا نہیں چاہیے اور یہ پولیس کی ڈیوٹی ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو قانون کے شکنجے میں لائے۔‘
انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران جو کوتاہیاں تھیں بتائی گئیں اور حکومت نے پولیس کو ایک سمت دے دی ہے اور جو اس پر نہیں چل سکتا ان کو سائڈ لائن کردیا جائے گا یا قبل از وقت ریٹائر کردیا جائے گا۔
وزیرِ اعلٰی نے کہا ’میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ عوام کے اعتماد پر پورا اتروں۔‘
’آئے دن کے واقعات کو مؤثر انداز میں روکنا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ڈی آئی جی اور آئی جی بھی میدان میں ہوں۔ اور امید ہے کہ بہتری آئے گی۔ یہ میں نہیں کہتا کہ بارہ گھنٹے یا چوبیس گھنٹے میں بہتری ہوگی لیکن عوام نمایاں بہتری دیکھیں گے۔‘







