جنوبی وزیرستان: ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک

مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی لیکن ملنگ اور گُلام خون دونوں شدید زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی لیکن ملنگ اور گُلام خون دونوں شدید زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پا کستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق ملا نذیر گروپ کے ایک کمانڈر کے فاتخونی کے موقع پر امریکی ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق اتوار کی صُبح صدر مقام وانا سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل برمل کے علاقے وچہ دانہ میں دو امریکی جاسوس طیاروں نے مُلانذیر گروپ کے ایک کمانڈر ملنگ کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا جس میں چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

انتظامیہ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں کمانڈر ملنگ اور گُلام خون شامل ہیں۔ جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایک دن پہلے سنیچر کو وانا کےگاؤں خُوشی خیل میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کمانڈر ملنگ کے چھوٹے بھائی رحمان علی ہلاک ہو گئے تھے۔ جس کی فاتحونی کے لیے مُلا نذیر گروپ کے ایک اور کمانڈر گُلام خون آئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فاتخونی کے بعد کمانڈر گُلام خون رُخصت ہو رہے تھے اور مکان کے سامنے ان کے گاڑی تک چھوڑنے کے لیے کمانڈر ملنگ بھی ان کے ساتھ تھے کہ اس دوران دو امریکی جاسوس طیاروں نے چھ میزائل فائر کیے جس میں گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مقامی لوگوں کے مطابق حملے کے بعد گاڑی میں آگ لگ گئی لیکن ملنگ اور گُلام خون دونوں شدید زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ ہوتے ہی قریبی گاؤں سے درجنوں لوگ وہاں پہنچ گئے اور لاشوں اور زخمیوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو افواج کے حملے کے بعد پاکستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کمی واقعی ہوئی تھی لیکن اب ایک بار پھر گزشتہ دو ہفتوں سے ان حملوں میں تیزی آئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں شمالی و جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کا یہ ساتواں حملہ ہے جس کے نتیجے میں پندرہ سے زیادہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔