خاران میں سکول پرنسپل ہلاک کر دیے گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
صوبہ بلوچستان کے شہر خاران میں سنیچر کی صبح نامعلوم افراد نےایک نجی سکول کے پرنسپل مظفر حسین جمالی کو ان کے بھانجے سمیت ہلاک کر دیا ہے جبکہ ان کی رشتہ دار دو بچیاں بھی زخمی ہو گئی ہیں۔
مظفر حسین جمالی اپنے آٹھ سالہ بھانجے عبید اللہ اور دو بچیوں کے ہمراہ اپنی کار میں گھر سے سکول جا رہے تھے جب ان کا گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان جی ایندھ بلوچ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مظفر جمالی کے بھانجے کی ہلاکت پر افسوس ہے کیونکہ ان کا مقصد سکول پرنسپل کی ہلاکت تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یہ اقدام بلوچستان میں جاری آپریشن کا ردِ عمل ہے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر خاران ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔ جس کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد دے کر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں مظفر حسین جمالی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
مظفر جمالی کے ایک رشتہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں نے دو اطراف سے پرنسپل صاحب کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی اور بعد میں جائے وقوعہ سے موٹرسائیکلوں پر فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد خاران پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے لیکن آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ دوسری جانب کسی تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
خیال رہے کہ اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند سال کے دوران تین درجن کے قریب اساتذہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد خوف کے باعث اندرون بلوچستان سے اپنے تبادلے کروا کر دیگر صوبوں میں جا چکی ہے۔



