پاکستان میں’حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں‘
ایمنٹسی انٹرنیشنل نے ’جبر اور ناانصافی مزید جاری نہیں رہ سکتی‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے اہم واقعات کا احاطہ کیا ہے۔ یہاں پر پاکستان میں حقوقِ انسانی کے حوالے سے ان اہم واقعات کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے جن کا ذکر اس رپورٹ میں ہے۔
ماورائے عدالت ہلاکتیں اور جبری گمشدگیاں

،تصویر کا ذریعہbbc
٭ اٹھائیس اپریل کو حقوق انسانی صدیق ایدو اور ان کے دوست یوسف نذر بلوچ بلوچستان کے پرگاری سربت کے علاقے میں مردہ پائے گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں پولیس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے فرنٹئر کور کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اکیس دسمبر دو ہزار دس کو اِغوا کیا تھا۔ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق ان کے جسموں پر زخم اور تشدد کے نشان تھے۔
٭ آٹھ جون ٹیلی ویژن ٹیم نے کراچی کے ایک پارک میں سرفراز شاہ کی پیراملٹری فورس رینجرز کے ہاتھوں ماورائے عدالت ہلاکت کی عکس بندی کی تھی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد، سندھ حکومت نے قانون نافذ کرنے والے سینر اہلکاروں کو برخاست کر دیا اور بارہ اگست کو انسداد دہشت گردی عدالت نے اس قتل کے الزام میں ایک رینجر اہلکار کو سزاے موت سنائی۔ پانچ دیگر رینجرز اہلکاروں اور ایک شہری کو عمر قید کی سزا سنائی دی گئی۔ ان تمام نے سزاوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔
٭ سترہ مئی کو پولیس اور فرنٹیر کور فورسز نے کوئٹہ میں پانچ غیرملکیوں کو جن میں ایک حاملہ عورت بھی شامل تھی خودکش حملہ آور قرار دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ تحقیقات نے ثابت کیا کہ یہ افراد غیرمسلح تھے لہذا دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ ایک صحافی کو جس نے اس واقعے کی تصاویر بنائیں جان کی دھمکیاں ملنے کے بعد خفیہ مقام پر روپوش ہونا پڑا۔ ایک ڈاکٹر پر جس نے مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم کیا تھگ حملہ کیا گیا اور نامعلوم افراد نے بعد میں انہیں ہلاک کر دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے دیگر عینی شاہدین کو بھی ڈرایا دھمکایا۔
٭ تیرہ فروری کو نامعلوم افراد نے مبینہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل آغا ظاہر شاہ کو بلوچستان کے ڈیرہ مراد جمالی علاقے میں اِغوا کیا۔ وہ کوئٹہ واپس لوٹ رہے تھے۔ انہیں دو جولائی کو انتہائی خراب صحت کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔

٭ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سینیئر رکن مظفر بھٹو کو پچیس فروری کو حیدرآباد، سندھ سے پولیس کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملوث افراد نے اِغوا کیا اور ان کی لاش مئی کے مہینے میں ملی جس پر تشدد کے نشانات تھے۔
٭ مئی میں مصری بھائیوں عبداللہ اور ابراہیم الشرکاوی لاپتہ ہوگئے۔ دو ہفتے بعد ان کے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ انہیں غیرقانونی قیام کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ لیکن ایک عدالت نے تصدیق کی کہ وہ پاکستانی شہریت رکھتے ہیں۔ ابراہیم کو ضمانت پر ستائیس جون کو جبکہ عبداللہ کو انتیس اگست کو رہا کر دیا گیا۔ دونوں نے کسی خفیہ مرکز میں دوران حراست تشدد اور بدسلوکی کا الزام عائد کیا۔
مسلح گروہوں کی غلط کاریاں
٭ نو مارچ کو ایک خودکش حملہ آور نے پشاور کے مضافات میں طالبان مخالف رہنما کی اہلیہ کے جنازے پر حملہ کر کے سینتیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
٭ اٹھارہ جولائی کو ٹی ٹی پی نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں نقاب پوش شدت پسندوں نے سولہ زیرحراست پولیس اہلکاروں کو گولیاں مار کرکے ہلاک کیا جانا دکھایا گیا تھا۔ یہ ویڈیو اس سے قبل اس پاکستانی فورسز کی جانب سے گرفتار باغیوں کو ہلاک کرنے والی فلم کے جواب میں جاری کی گئی۔
٭ تحریک طالبان پاکستان نے انیس اگست کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں سینتالیس افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
٭ ستمبر میں پاکستانی طالبان نے بارہ سے اٹھارہ سال کے تیس لڑکوں کو پاکستان افغانستان کے سرحدی علاقے باجوڑ سے اغوا کیا اور پشاور میں ایک سکول وین پر حملہ کیا جس میں چار بچے اور ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا۔
٭ بلوچستان میں قوم پرست گروہوں نے مخالف دھڑوں کے اراکین، پنجابیوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا قتل کیا اور گیس اور بجلی کی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی جن سے صوبے میں توانائی کی شدید قلت رہی۔ مسلح گروپ لشکر جھنگوی اور دیگر نے فرقہ ورانہ وارداتوں میں دو سو اسی شیعہ مسلمانوں کو ہلاک یا زخمی کیا۔
٭ چار جنوری کو بلوچستان کے شہر تربت میں فرنٹیئر کور سپاہیوں کے بچوں کی سکول بس پر آئی ای ڈی حملے میں پانچ بچے زخمی ہوئے تھے۔ اگرچہ کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی بلوچوں کو ان کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔
٭ پچیس اپریل کو کم از کم پچیس افراد جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے زندہ جلا دیئے گئے جب نامعلوم حملہ آوروں نے کوئٹہ جانے والی ایک بس کو ضلع سبی کے پیرک علاقے میں آگ لگا دی۔
٭ لشکر جھنگوی نے چھبیس شیعہ زائرین کو ضلع مستونگ میں قطار میں کھڑا کرکے قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بعد میں ہلاک کیے جانے والوں میں سے تین کے رشتہ دار جب اُن کی لاشیں لینے کے لیے کوئٹہ سے وہاں پہنچے تو انہیں بھی بیس ستمبر کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح کے چار اکتوبر کے ایک واقعے میں چودہ شیعہ زائرین کو قتل کیا گیا۔
آزادی اظہار
٭ تیرہ جنوری کو جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کو منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کارروائی کی رپورٹنگ کے چند گھنٹوں بعد ایک گاڑی میں سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے کراچی میں ہلاک کر دیا تھا۔
٭ انتیس مئی کو ایشیا ٹائمز آن لائن کے سلیم شہزاد اسلام آباد میں اپنی رہائش کے باہر ایک انٹرویو کے لیے روانہ ہونے کے چند منٹ بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کی لاش دو روز بعد پنجاب صوبے سے ملی تھی۔ انہوں نے اس سے قبل پاکستان نیوی میں القاعدہ کے گھسنے کی خبر دی تھی۔ اکتوبر دو ہزار دس میں انہوں نے نجی طور پر ساتھیوں کو بتایا تھا کہ انہیں اسی قسم کی رپورٹنگ پر انٹر سروسز انٹلیجنس ایجنسی کی جانب سے جان کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
مذہبی امتیاز
٭ پچیس جنوری کو ایک خودکش حملہ آور نے عبادت میں مصروف شیعوں کو نشانہ بنا کر کم از کم تیرہ افراد کو لاہور میں ہلاک کر دیا۔ فدائین اسلام نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
٭ جون میں آل پاکستان سٹوڈنٹس ختم نبوت فیڈریشن نے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں پمفلٹ تقسم کیے جس میں احمدی برادری کی نامور شخصیات کی فہرست درج تھی۔ پیغام میں انہیں’جہاد‘ کے نام پر قتل کرنے کو کہا گیا تھا۔

٭ چوبیس ستمبر کو ایبٹ آباد کی تیرہ سالہ مسیحی لڑکی فریال بھٹی کو سکول سے اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ وہ اردو کا ایک لفظ غلط لکھنے سے مبینہ طور پر توہین رسالت کی مرتکب ہوئی۔ اس لڑکی کے گھر والوں کو روپوشی اختیار کرنا پڑی تھی۔
٭ اگست دو ہزار نو کے پنجاب کے گوجرہ شہر میں ایک مسیحی کالونی پر حملے میں ملوث تمام ملزمان ضمانت پر رہا کر دیئے گئے کیونکہ عینی شاہدین اپنے تحفظ کے خوف سے شہادت نہیں دے سکے۔
٭ سلمان تاثیر کے قاتل کو سزائے موت دینے والے جج کو جان کی دھمکیاں ملنے کے بعد روپوشی اختیار کرنا پڑی جبکہ شہباز بھٹی کے قاتلوں کو ابھی بھی کیفر کردار تک پہنچانا باقی ہے۔ سیاستدان شیری رحمان نے قومی اسمبلی سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا مجوزہ بل جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد واپس لے لیا۔ ایک مسیحی کسان آسیہ بی بی جنہیں توہین رسالت کے الزام میں دو ہزار نو میں سزاے موت سنائی گئی تھی ان کی اپیل کی سماعت جاری ہے اور وہ اب بھی قید ہیں۔
عورتوں اور بچیوں کے خلاف تشدد
٭ دس ستمبر کو چار استانیوں پر مخلوط سکول سے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں روانہ ہونے پر موٹر سائیکل پر سوار دو نقاب پوشوں نے تیزاب کا حملہ کیا۔ ایک عورت محفوظ رہی جبکہ دو کو ہلکے زخموں کے علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا لیکن چوتھی عورت کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی سرجری سے گزرنا پڑا۔ وفاقی اور صوبائی حکام نے واقع کا نوٹس لیا لیکن آج تک ملوث افراد کو سزا نہیں دلوا سکیں ہیں۔
٭ پندرہ اکتوبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی ایک نوعمر لڑکی نے تیرہ افراد پر جن میں تین پولیس اہلکار بھی شال تھے ایک سال تک حراست کے دوران اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا۔ نو دسمبر کو ان کے بھائی کو ضلعی عدالت سے مقدمے کی سماعت کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔







