’سلالہ حملے پر پاکستان سےمعافی مانگی جائے‘

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نےکہا کہ اب پاکستان کو نہیں بلکہ امریکہ کو ’ڈو مور‘ کہنے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نےکہا کہ اب پاکستان کو نہیں بلکہ امریکہ کو ’ڈو مور‘ کہنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیٹو کی جانب سے مبینہ طور پر سلالہ فوجی چوکی حملے پر پاکستان سے معافی مانگے۔

یہ بات پاکستان کی حکمران پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ نے پیر کو نیویارک کے علاقے لانگ آئیلینڈ میں اپنی پارٹی کے کارکنوں اور بعد میں پاکستانی پریس سے خطاب کے دوران کہی۔

ٰنیو یارک میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن مجتبی کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ميں پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں جن میں پاکستان کے تیس ہزار شہری اور چھ ہزار فوجیوں اور دیگر اہلکاروں کی جانیں دہشتگردی کا شکار ہوئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو نہیں بلکہ امریکہ کو ’ڈو مور‘ کہنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے یہ سب ایک ایسے وقت کہا ہے کہ جب انکے والد اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری شکاگو میں نیٹو کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں جہاں امریکہ اور پاکستان کے درمیان نیٹو سپلائي لائن پر کافی کشیدگي پائی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ انکی والدہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے تمام کے تمام قاتل یا تو گرفتار ہوچکے ہیں یا مارے گۓ ہیں سوائے ایک سابق فوجی آمر جنرل رٹائرڈ پرویز مشرف کے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر جو لوگ بینظیر بھٹو کے قتل کے پیچھے رجمان ملک پر الزام لگاتے ہیں وہ پارٹی کے دوست نہیں بلکہ پارٹی کے اندر پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا انکی پارٹی کے خلاف تھوڑی متعصب ہے۔