آگسٹا آبدوز کیس: جمیل انصاری کی درخواست مسترد

،تصویر کا ذریعہPA
سندھ ہائی کورٹ نے آگسٹا آبدوز کی خرید میں مذاکرات کار کی جانب سے اٹھائیس لاکھ امریکی ڈالر قومی احتساب بیورو سے دلوانے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
فرانسیسی حکومت کی جانب سے دفاعی سازوسامان کے کنسلٹنٹ احمد جمیل انصاری نے سنہ انیس سو چورانوے میں پاکستانی بحریہ کے ساتھ ایک سودا کیا تھا جس کے تحت پاکستانی بحریہ کو آگسٹا 90 آبدوز، ایس ایم-39 میزائل اور ہنکر کشتیاں فروخت کیے گئے تھے۔
اس سودے میں جمیل انصاری کے لیے جو معاوضہ طے پایا تھا اس کی وصولی کے لیے انہوں نے اپیل دائر کی اور درخواست کی تھی کہ انہیں یہ رقم قومی احتساب بیورو سے دلوائی جائے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں اس سودے میں پچیس فیصد کمیشن مل گیا تھا تاہم اٹھائیس لاکھ ڈالر نواز شریف اور پرویز مشرف کے ادوار میں نیب کو دیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں اس وقت کے نیب کے سربراہ سیف الرحمان نے ان سے زبردستی چوبیس لاکھ اڑسٹھ ہزار ڈالر وصول کیے تھے جبکہ برطانیہ میں ایک جائیداد کے معاملے میں ان سے نیب نے آٹھ لاکھ ڈالر وصول کیے۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ نیب کے حکام نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی رقم واپس کردی جائے گی تاہم ان یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا گیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق جمیل انصاری نے اس سودے میں ہونے والی مالی بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد نیب کی بحریہ کے سابق سربراہ منصورالحق سے رقم کی وصولی میں مدد کی تھی، تاہم اپنی آئینی درخواست میں انہوں نے اس سودے میں کک بیکس اور کمیشن کی تردید کی اور کہا کہ ان کا معاوضہ فرانسیسی کمپنی سے شفاف سودا کرانے کے عوض طے کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ آگسٹا آبدوز کی خرید میں بدعنوانی کے معاملے میں ملوث نہیں تھے لہذٰا انہیں ان کی رقم نیب سے واپس دلوائی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیب نے عدالت میں درخواست گزار کے دعووں کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ احتساب بیور کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ بحریہ کے سابق سربراہ منصورالحق نے کک بیکس اور کمیشن حاصل کی جبکہ درخواست گزار نے سنہ انیس سو اٹھانوے میں نیب کو دیے گئے اپنے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ منصور الحق اور عامر لودھی کے اکاؤنٹ میں کمیشن منتقل کرنے کے لیے درخواست گزار کا اکاؤنٹ استعمال کیا گیا تھا۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے فریقین کے بیانات سننے کے بعد درخواست گزار کی آئینی درخواست کو مسترد کر دیا۔







