بلٹ پروف گاڑیاں،حکومت کو ایک ماہ کی مہلت

’شوکت عزیز کی ہدایت پر ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے بائیس بُلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئی تھیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’شوکت عزیز کی ہدایت پر ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے بائیس بُلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئی تھیں‘

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو مختلف وفاقی وزراء، پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران اور دیگر سیاست دانوں کے زیرِ استعمال سرکاری بُلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال کو قواعد و ضوابط کے مطابق بنانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔

ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کو یہ گاڑیاں واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جن افراد کے پاس یہ سرکاری بُلٹ پروف گاڑیاں ہیں اُن میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کے علاوہ وزیر داخلہ اور حکمراں اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، پاکستان مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف شامل ہیں۔

منگل کے روز حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی افضل ندیم چن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سنہ دو ہزار چار اور پانچ میں کابینہ ڈویژن کے اخراجات سے متعلق آڈٹ کیا گیا۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن نرگس سیٹھی نے اجلاس کو بتایا کہ دو ہزار چار اور پانچ میں سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز کی ہدایت پر ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے بائیس بُلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئی تھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کی دیکھ بھال پر بہت زیادہ خرچہ آتا ہے۔ نرگس سیٹھی کا کہنا تھا کہ ایک گاڑی کی مرمت کروائی جائے تو اُس پر اتنا خرچہ آتا ہے کہ اُتنے میں ایک نئی تیرہ سو سی سی گاڑی خریدی جا سکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ گاڑیاں مختلف وفاقی وزراء سیاست دانوں اور فوجی افسران کے پاس ہیں لیکن اُن کی دیکھ بھال پر اُٹھنے والے اخراجات سرکاری خزانے سے ہی ادا ہوتے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کیبنٹ ڈویژن کی سیکرٹری کا کہنا تھا کہ یہ گاڑیاں وفاقی وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، وزیر صنعت وتجارت کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے وزراء اعلی اور خیبر پختون خوا کی اسمبلی کے سپیکر کے پاس ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کے زیر استعمال بھی ایک بُلٹ پروف گاڑی ہے۔ نرگس سیٹھی کے مطابق تین بُلٹ پروف جیپیں وزیر اعظم ہاؤس میں موجود ہیں جبکہ دو بُلٹ پروف گاڑیاں کابینہ ڈویژن میں کھڑی ہیں جو کہ پاکستان کے دورے پر آنے والی غیر ملکی شخصیات کے لیے رکھی گئی ہیں۔

افضل ندیم چن کا کہنا تھا کہ قواعد کے مطابق ایک وفاقی وزیر سولہ سو سی سی گاڑی استعمال کرسکتا ہے لیکن اتنی مہنگی گاڑیاں کسی طور پر بھی استعمال میں نہیں لائی جا سکتیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ان بُلٹ پروف گاڑیوں کے استعمال کے لیے قواعد میں تبدیلی کی جائے۔

ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان افراد کے زیرِ استعمال گاڑیاں واپس لی جائیں جس پر کیبنٹ ڈویژن کی سیکرٹری نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اُن میں کہاں اتنی جرات کہ وہ ان افراد سے گاڑیاں واپس لے سکیں۔

کمیٹی کے چیئرمین نے آڈیٹر جنرل سے کہا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ایک ماہ کے بعد آڈٹ پیرے بنائے جائیں اور اگر ان گاڑیوں کی دیکھ بھال پر اُٹھنے والے اخراجات مختص کردہ رقم سے زیادہ ہیں تو جن افراد کے زیر استعمال یہ گاڑیاں ہیں اُن سے یہ رقم وصول کی جائے۔