خیبر: متاثرہ بچوں کے لیے امداد کی اپیل

’نقل مکانی کے بعد ان کے بچوں میں ناپسندیدہ تبدیلیاں آئی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن’نقل مکانی کے بعد ان کے بچوں میں ناپسندیدہ تبدیلیاں آئی ہیں‘

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دا چلڈرن نے کہا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے جن میں تین لاکھ سے زیادہ بچے شامل ہوں گے۔

تنظیم نے عالمی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ شورش سے متاثرہ ان افراد کی مدد کے لیے آگے آئیں۔

سیو دا چلڈرن کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی سے ایک اندازے کے مطابق اب تک تریسٹھ ہزار خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان متاثرین کی کل تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

تاہم پناہ گزینوں کے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اب تک صرف دو لاکھ نو ہزار کے قریب لوگوں نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔

ان میں سے صرف دس فیصد متاثرین نے جلوزئی کیمپ میں قیام کیا ہے باقی نوے فیصد متاثرین پشاور اور اسکے نواحی علاقوں میں کرائے کے مکانوں یا اپنے رشتے داروں کے گھروں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ تنظیم کے مطابق ان لوگوں کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے اور وہ انتہائی تکلیف دہ حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔

امدادی تنظیم کے مطابق انہیں صحت مند ماحول، خوراک، علاج و معالجے اور تعلیم کی سہولیات کی ضرورت ہے۔

نامہ نگار احمد رضا کے مطابق سیو دا چلڈرن کا کہنا ہے کہ یونیسیف کے مطابق متاثرین میں پچاس فیصد بچے ہیں جن میں بارہ فیصد وہ بچے ہیں جن کی عمر دو سال سے ہے جبکہ اٹھائیس فیصد ایسے بچے ہیں جو پانچ سال سے کم عمر ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ شورش سے متاثرہ بچوں کو فوری طور پر نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ متاثرین میں شامل سڑسٹھ فیصد ماؤں نے شکایت کی ہے کہ نقل مکانی کے بعد ان کے بچوں میں ناپسندیدہ تبدیلی آئی ہے۔

سیو دا چلڈرن نے ڈھائی لاکھ متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچنے اور ان کی امداد کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے پونے دو لاکھ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

تنظیم نے عالمی اداروں سے ان متاثرین کی مدد کے لیے امدادی اداروں کو مالی مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔