دو سرکاری سکول دھماکے سے تباہ

،تصویر کا ذریعہAP

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے دو سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے واقعہ میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب، صدر مقام وانا سے پانچ کلومیٹر دور کڑی کوٹ کے علاقے جنان کوٹ میں نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے مڈل سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کر کے دو دھماکے کیے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے سکول کا مرکزی دروازہ مکمل طور تباہ ہوگیا جبکہ عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اہلکار کے مطابق چاردیواری بھی جگہ جگہ سےگر گئی۔

دوسرا واقعہ ایک اور قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی تحصیل حلیمزئی میں پیش آیا جس میں مسلح افراد نے ایک سرکاری پرائمری سکول میں بارودی مواد سے کئی دھماکے کر کے سکول کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

اس طرح مہمند ایجنسی میں بھی تباہ کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ساٹھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

نامہ نگار دلاورخان وزیر کے مطابق قبائلی علاقوں میں پچھلے تین؛چار سالوں سے تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارات پر حملہ کا سلسلہ جاری ہے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے ہزاروں طلبہ تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں سرکاری سکول اور نجی تعلیمی اداراے حملوں کے خوف کے باعث بند پڑے ہیں۔

ان واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی لیکن قبائلی علاقوں کے طالبان وقتاً فوقتاً سکولوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ان واقعات سے چند دن پہلے خیبر پختوخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم شدت پسندوں نے لڑکوں کے ایک سکول میں بارودی مواد نصب کر کے سکول کو تباہ کر دیا تھا۔ سکولوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ صرف قبائلی علاقوں میں نہیں بلکہ گزشتہ ایک عرصے سے خیبر پختوخوا میں بھی جاری ہے۔