مسئلہ سیاچن کا پرامن حل ضروری، کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنجنرل کیانی نے پاک بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا ہے کہ سیاچن کے مسئلے پر بھارت کے موقف میں شدت آئی ہے تاہم انہوں نے اس قضیے کے پرامن حل کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا ہے۔

جنرل کیانی سیاچن کے قریب گیاری سیکٹر میں برفانی تودے میں دبے ہوئے فوجیوں کی تلاش میں جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے تھے اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انیس سو اناسی میں دونوں ممالک سیاچن کے مسئلے کے حل کے کافی قریب آگئے تھے لیکن اس کے بعد سے حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان سیاچن کے مسئلے پر جو سیکرٹری خارجہ کے آخری مذاکرات ہوئے تھے میں اس بارے میں کھل کر بات کروں گا کہ بات قدرے آگے نہیں بڑھی۔ پہلے بھارت متنازع سرحد کی تصدیق کی بات کرتا تھا لیکن اب تعین کا مطالبہ کر رہا ہے۔ میں اس مسئلے کے پرامن حل کا حامی ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود دونوں ممالک کو اس بارے میں بات کرنی ہوگی کیونکہ ’پرامن حل کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمت کی پروا کیے بغیر اس خطے کا دفاع کریں۔ انہوں نے مختصر گفتگو میں تیسری مرتبہ کہا کہ بہتر یہی ہوگا کہ اس کا پرامن حل ہی تلاش کیا جائے۔

گزشتہ دنوں سیاچن کو غیرفوجی علاقہ قرار دینے کے بیان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں اسے زبردست پذیرائی ملی اور بھارت میں بھی چند حلقوں کے علاوہ اس پر عمومی طور پر مثبت ردعمل سامنے آیا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے‘۔

گیاری میں جاری امدادی کاموں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آخری سپاہی کی لاش ملنے تک یہ امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔