نیا صوبہ اور وزیراعظم پر اعتماد، قراردایں منظور

وزیر قانون فاروق نائک نے قواعد معطل کر کے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی قرارداد پیش کی
،تصویر کا کیپشنوزیر قانون فاروق نائک نے قواعد معطل کر کے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی قرارداد پیش کی

حکومت نے جمعرات کوا کثرتی رائے سے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کرالی ہے۔

مسلم لیگ (ن) جو وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں سزا ملنے پر احتجاج کر رہی تھی انہوں نے اس موقع پر شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی۔

وزیر قانون فاروق نائک نے قوائع معطل کرکے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور پیش کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی عوام کو سیاسی، انتظامی اور اقتصادی حقوق دینے کے لیے جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنایا جائے۔

انہوں نے ایک اور قرارداد بھی پیش کی جو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کا اظہار کرنے کے بارے میں تھی اور وہ بھی اکثرتی رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آئینی اور قانونی وزیراعظم تسلیم کرتا ہے اور انہوں نے تین بار عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر عدلیہ کا احترام کیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی نا اہلی کے لیے آئینی طریقہ کار پر یقین رکھتا ہے اور کوئی دوسرا طریقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ایک موقع پر عابد شیر علی اور اخونزادہ چٹان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی لیکن دونوں جانب کے اراکین نے بیچ بچاؤ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے آگے اور وزیراعظم کی نشست پر ‘گو گیلانی گو اور قوم بھوکی مار دی ہائے پیپلز پارٹی‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ کئی اراکین نے کتبے بھی لہرائے اور تمام اراکین نے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

دونوں قرادادوں کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی۔ جمعرات کو ایوان کی کارروائی مقررہ وقت سے سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوئی کیونکہ حکومت اپنے حامی اراکین کی بھرپور حاضری کو یقینی بنانا چاہتی تھی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کی شعبدہ بازی کر رہی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین بار جب آئین میں ترمیم ہوئی اس وقت جنوبی پنجاب کی قرارداد کیوں نہیں لائی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) جمعہ کو جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور فاٹا کے نئے صوبے بنانے کے لیے باضابطہ قرارداد لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کو قوم کو پتہ چل جائے گا۔

واضح رہے کہ توہین عدالت کے مقدمے میں وزیراعظم کو ملنے والی سزا کے خلاف مسلم لیگ (ن) پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سراپا احتجاج ہے اور گزشتہ چار روز سے کارروائی میں خلل ڈالتی ہے۔ ان کے اراکین تلاوت اور اذان کے وقت خاموش رہتے ہیں لیکن باقی کارروائی کے دوران نعرہ بازی اور ہلڑ بازی کرتے ہیں۔