وزیر اعظم اقتدار چھوڑ دیں: نواز لیگ کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ(ن) نے توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا پانے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے کہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں یا پھر احتجاجی تحریک کا سامنا کریں۔
مسلم لیگ نواز کے اس فیصلے کا اعلان جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے پیر کو اسلام آباد میں جماعت کی پارلیمانی پارٹی اور مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا دیے جانے کے بعد مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے یہ اجلاس طلب کیا تھا۔
اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے وزیر اعظم گیلانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا حکم مانو، وزارت اعظمیٰ چھوڑو ورنہ احتجاجی تحریک کا سامنا کرو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری جماعت کا حتمی فیصلہ ہے اور یہ پاکستانی قوم کا معاملہ ہے، یہ پاکستانی قوم کا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ میں قوم کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آپ تک پہنچا رہا ہوں۔‘
مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا ہے کہ توہین عدالت میں سزا یافتہ ہونے کے باجود وزیر اعظم اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک نائب قاصد کو سزا ملے تو اسے نوکری سے برخاست کیا جاتا ہے اور وزیر اعظم سزا یافتہ ہو تو اسے ہٹایا نہیں جاتا کیونکہ وہ وزیر اعظم ہیں اور اعلیٰٰ منصب پر فائز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی پارلیمانی پارٹی اور سنٹرل ورکنک کمیٹی کے اجلاس میں سب نے یہ محسوس کیا کہ پوری پاکستانی قوم کو ایک بار ملک میں قانون کی حکرانی کے لیے کمر بستہ ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میاں نواز شریف نے کہا کہ ’حالات کا تقاضہ اور وقت کی پکار یہی ہے کہ وہ تمام طبقے، جماعتیں اور عوام جنھوں نے عدلیہ کی بحالی کی جدو جہد کو کامیاب بنایا تھا ایک بار پھر متحد ہوکر کرپشن کا دفاع کرنے والی ان قوتوں کے خلاف صف آرا ہوں جو قانون کی حکمرانی کو مٹی میں ملا دینا چاہتے ہیں۔‘
میاں نواز شریف نے حکومت مخالف دوسری جماعتوں کو بھی دعوت دی کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک میں شریک ہوں۔
‘جب انتخاب آئے گا تو ہم انتخابی سیاست کریں گے لیکن یہ وقت قوم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کیے لیے متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہونے کا ہے۔ میں جمہوری قوتوں بشمول وکلاء، تاجروں، طلباء، سول سوسائٹی، کسانوں، میڈیا اور نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں آیے ایک بار پھر مارچ دو ہزار نو کے جذبوں کو زندہ کریں۔‘
ان کا واضح اشارہ عدلیہ کی بحالی کے لیے ان کی قیادت میں ہونے والے لانگ مارچ کی طرف تھا جس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے مشرف کے دور حکومت میں معزول ہونے والے ججوں کو بحال کردیا تھا۔
احتجاج کی نوعیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر میاں نواز شریف نے کوئی واضح جواب نہیں دیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور وہ تمام جماعتوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ حکومت مخالف احتجاج میں شامل ہوں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، اپنے دھڑے کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی تمام جماعتوں اور سندھ کی قوم پرست پاٹیوں سے بھی رابط کریں گے۔
ایک سوال کا جواب میں میاں نواز شریف میں کہا کہ وہ اسی ہفتے حکومت مخالف احتجاجی تحریک شروع کررہے ہیں۔
’ہم احتجاجی تحریک اسی ہفتے سے شروع کررہے ہیں، آج سے شروع ہورہی ہے، آپ دیکھیں گے ان ہاؤس اور اس کے بعد باہر بھی۔ یہ احتجاجی تحریک ہم شروع کریں گے۔‘







