کوئٹہ: امن و امان کی صورتحال پر اجلاس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی زیرِ صدارت ایک خصوصی اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کوئٹہ شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات سے پیدا ہونے والی صورتحال کاجائزہ لیکر سکیورٹی کے قلیل المعیاد اورطویل المدتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق اتوار کو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے نصیب اللہ بازئی نے حکام کو حفاظتی منصوبوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ قلیل المعیاد منصوبے کے تحت شہر کو بیس سیکٹروں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ ان میں پولیس چیک پوسٹوں کا قیام، ناکہ اور موبائل ڈیوٹی کی تفصیلات مرتب کر لی گئی ہیں۔
منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پولیس اورمحکمۂ داخلہ کی سطح پر الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جوروزانہ کی بنیاد پرحالات کاجائزہ لیں گی۔
سکیورٹی اہلکاروں کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسی کمزوری کی صورت میں حکام بالا کو آگاہ کر کے متعلقہ تھانے کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
منصوبے کے تحت کوئٹہ میں پولیس کو انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) اور بلوچستان کانسٹیبلری کے علاوہ فرنٹیئرکور (ایف سی) کی بیس پلاٹون کی بھی مدد حاصل ہوگی۔
اجلاس کو بتایاگیا کہ طویل المدتی منصوبے کے تحت کوئٹہ اور اس کے گردو نواح میں سکیورٹی انتظامات اور اہلکاروں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن کے تحت کوئٹہ میں داخل ہونے والی تمام اہم شاہراہوں پر سکیورٹی گیٹس نصب کرنے اور عام راستوں پر پولیس لیویز اور ایف سی کی چوکیاں قائم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ شہری حدود میں دو سو پچاس سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی کی جائے گی جبکہ پولیس اور لیویز کو ٹرانسپورٹ، مواصلات اور اسلحہ سمیت تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ دہشت گردی پر قابو پایا جا سکے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیکرٹری داخلہ نے اجلاس کو اب تک کی کارروائیوں کے بارے میں بتایا کہ 62 مشکوک افراد کوگرفتار کیاگیا ہے جن کے قبضے سے غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد کیاگیا ہے۔
اجلاس میں غیررجسٹرڈ گاڑیوں اورغیر لائسنس یافتہ اسلحے کے لیے تمام راہداریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور بتایاگیا کہ کسی گاڑی کی جانب سے کوئی راہداری قابل قبول نہیں ہوگی۔
اجلاس میں طے پایا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور شہرمیں مزید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نواب محمداسلم خان رئیسانی نے اس موقع پر کہا کہ یہ ہمارا اپنا شہر ہے اوریہاں امن و امان برقرار رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔







