کوئٹہ میں فائرنگ سے عالمِ دین ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک ممتاز عالم دین ہلاک ہوگئے جبکہ مستونگ سے مزید دو لاپتہ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعہ کو کوئٹہ کی سریاب روڈ پراس وقت نامعلوم افراد نے نورانی مسجد کے خطیب مولانا محمد قاسم کوگولیاں مار کر ہلاک کردیاجب وہ نمازِ جمعہ پڑھانے کے لیے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔
فائرنگ کے بعد نامعلوم ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے تاہم پولیس نےنامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔ آخری اطلاع تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی اور نہ ہی کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
مولانا محمد قاسم کی ہلاکت پر شہریوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کئی گھنٹوں تک ٹائرجلا کر برماہوٹل کے مقام پرکوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو بند رکھا۔ بعد میں انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی پر مظاہرین نے سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا۔
دوسری جانب مستونگ کے علاقے کانک سے آج مقامی لیویز کو دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں شناخت کے لیے بولان میڈیکل ہسپتال کوئٹہ لایا گیا ہے جہاں ورثاء نے انکی شناخت رئیس رئیسانی اور عبدالمنان پیرکانی کے نام سے کی ہے۔
مستونگ کے مقامی صحافی عطاء اللہ بلوچ کے مطابق ان دونوں افراد کاتعلق کانک سے تھا اور گزشتہ روز وہ اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لوٹ کر واپس نہیں آئے۔
ادھر تربت میں مقامی صحافی طارق مسعود نے بتایا ہے کہ تین ماہ قبل مکران سے لاپتہ ہونے والا نوجوان مختیار رؤف بازیاب ہوکرگھر پہنچ گیا ہے۔
بلوچ نیشنل وائس کے ترجمان نے چار افراد کی بازیابی کو خفیہ اداروں اور اعلیٰ عدالت کی ملی بھگت قراد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک چودہ ہزار بلوچ لاپتہ ہیں جن میں سے چار سوکی تشدد زدہ لاشیں مل چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے اقوام محتدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ خفیہ اداروں کے زیرحراست بلوچوں کی بازیابی کے لیے اقدامات کرے۔ بلوچ نیشنل وائس کے مطابق گزشتہ دوسال میں چار سو سے زائد لاپتہ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔







