پارہ چنار میں پانچ مسافر زخمی

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں مسافر گاڑیوں پر بم حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ حملے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کم سے کم پانچ مسافر زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیٹکل انتظامیہ کرم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح ایک مسافر گاڑی ایجنسی کےصدر مقام پارہ چنار سے پشاور جارہی تھی کہ لوئر کرم کے علاقے مندوری میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے گاڑی میں سوار کم سے کم پانچ مسافر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی بتائے جاتے ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو ٹل کے ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق دھماکے کے باوجود ٹل پارہ چنار شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
خیال رہے کہ ٹل پارہ چنار شاہراہ پر پچھلے چند ماہ سے مسافر گاڑیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں عام شہری مارے جاچکے ہیں۔ تین دن پہلے بھی لوئر کرم کے علاقے میں مسافر ہائی ایس گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملہ کیا گیا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ حملے ایسے وقت ہورہے ہیں جب چند ماہ قبل ہی قبائلی مشران نے مشترکہ طورپر ایک معاہدے کے نتیجے میں ٹل پارہ چنار شاہراہ عام ٹریفک کےلیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل یہ واحد اہم شاہراہ علاقے میں کشیدگی کے باعث تقریباً تین سال تک بند رہی تھی۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے بعض شدت پسند تنظیموں کی طرف سے کئے جارہے ہیں جس کا مقصد علاقے میں کشیدگی کو ہوا دینا ہے۔



