باجوڑ میں مسجد کے باہر دھماکہ، چار ہلاک

باجوڑ کے طالبان: فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنباجوڑ میں تشدد کا واقعہ کافی عرصے کے بعد پیش آیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں طالبان مخالف لشکر پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

باجوڑ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ دھماکہ بدھ کو تحصیل ماموند کے علاقے گاٹکی میں مسجد کے سامنے پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ ماموند قبائلی لشکر کے افراد مسجد سے باہر نکل کر آپس میں مل رہے تھے کے اس دوران وہاں سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے زوردار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ بعض ذرائع نے مرنے والے افراد کی تعداد پانچ بتائی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے قبائلی لشکر کے افراد شامل ہیں۔ زخمیوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کر دیا گیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں ماموند اور سلارزئی قبائلی لشکروں پر اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ طالبان کی طرف سے حملے کئے جاچکے ہیں جس میں کئی قبائلی سردار ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم حالیہ حملہ کافی عرصہ کے بعد پیش آیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ایک سرکاری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہے جبکہ سیکور ٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے تین مکانات کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنخیبر ایجنسی میں حملوں کا سلسلہ گزشتہ تین چار سال سے جاری ہے

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب مسلح افراد نے باڑہ سب ڈویژن کے علاقے آکاخیل میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ تین چار برس سے سرکاری و نجی سکولوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک پوری ایجنسی میں درجنوں تعلیمی اداروں کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔

ادھر دوسری طرف خیبر ایجنسی ہی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے تین مکانات کو تباہ کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے باڑہ کے علاقے سپاہ میں شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین کمانڈروں کے مکانات کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا ہے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ باڑہ کے علاقوں شلوبر اور آکاخیل میں کرفیو کے باعث سینکڑوں طلباء و طالبات میٹرک کے امتحانات دینے امتحانی مراکز نہیں پہنچ سکے۔ تاہم محمکہ تعلیم خیبر ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے انہیں ابھی تک اس قسم کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ باڑہ کے کچھ علاقوں میں گزشتہ تین چار ماہ سے سیکورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ رہتا ہے جبکہ ان علاقوں سے ہزاروں کے تعداد میں لوگ بھی بےگھر مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں۔